|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2025

پسنی:  کچھ روز قبل پسنی میں پولیس کے ساتھ مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد پولیس کی فائرنگ سے جان بحق پسنی وارڈ نمبر1 کے رہائشی غلام ولد خان محمد کی فیملی نے پسنی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پسنی پولیس نے مارؤائے قانون ہمارے بھائی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

فیملی نے بتایا کہ جس رات یہ واقعہ پیش آیا تھا اہل علاقہ اس بات کا گواہ ہے کہ پولیس نے کس قدر جارحیانہ رویہ اپنا ہوا تھا پولیس کی فائرنگ سے زخمی غلام کے نزدیک ہمیں جانے نہیں دیا گیا اور ہم پولیس سے اپیل کی کہ غلام کو ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اْسے ہسپتال لے جاسکیں لیکن پولیس نے ہمیں اجازت نہیں دی۔

مقتول غلام خان محمد کی فیملی نے بتایا کہ آخر میں ڈی ایس پی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمی غلام کو اسپتال پہنچایا لیکن خون زیادہ بہہ چکا تھا۔ غلام خان محمد کی فیملی نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے غلام کو مارؤائے قانون اور آئین قتل کردیا گیا ہے

اور کیس کو سنگین پاکر اب ہمارے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگایا جا رہا ہے اوراْسے دہشت گردی کے کیس میں نامزد کردیا گیا ہے جو کہ جھوٹ ہے اور ہم اِس کی تردید کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اْنھوں نے بتایا کہ غلام پر اگر کسی بھی قسم کا کوئی کیس تھا تو پولیس اْسے پکڑ کر عدالت میں پیش کراسکتا تھا کیونکہ اس سے قبل بھی پولیس اْنھیں متعدد بار گرفتار کرچکی ہے لیکن اس بار گرفتار کرنے کے بجائے اْنھیں فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا یہ کہاں کا انصاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم پولیس کے اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کی مکمل چھان بین کریں اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور مقتول غلام کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کاررؤائی کیا جائے۔ دوسری جانب پسنی پولیس نے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا کہ غلام خان محمد ایک عادی مجرم تھا اور 2009 سے لیکر 2025 تک مختلف کیسز میں سزا پا چکا تھا،

ڈکیتی،چوری اور نقب زنی سمیت اقدام قتل میں بھی ملوث تھا پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی رات غلام اور اْسکے ساتھی نے پولیس پر فائرنگ کیا تھا اور پولیس کی جوابی فائرنگ میں مارا گیا لہذا پولیس پر یکطرفہ کاررؤائی کرنے کا الزام بے بنیاد ہے اور پولیس کے پاس تمام شوائد موجود ہیں