|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2025

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف سیاسی عمل پر پابندی عائد ہے بلکہ غیر قانونی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرکے کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر معاشرے کو انتہاپسندی کی جانب دھکیلا گیا ہے، جس کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کے تعلیمی مسائل پر بات چیت، اسٹڈی سرکلز اور مباحثوں پر پابندی عائد کرنے کے سرکلرز جاری کرکے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی، اکیڈمک بلیک میلنگ اور مالی بدعنوانی جیسے مسائل کو مزید ہوا دی جارہی ہے،

جبکہ اداروں کو منفی و سماج دشمن عناصر کا مرکز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایک جانب حالیہ دنوں میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوامی انٹریکشن کے نام پر کریڈٹ لینے کی کوششیں کی جارہی ہیں، تو دوسری جانب تعلیمی اداروں میں اسٹڈی سرکلز اور مباحثوں پر پابندی کے لیٹرز جاری کرکے ہر مثبت سرگرمی کو قدغن کا شکار بنایا جارہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان طبقہ ہے، خصوصاً طلباء و طالبات، جنہیں سننے اور مباحثے کے ذریعے انگیج کرنے کی ضرورت ہے،

مگر بدقسمتی سے اسٹڈی سرکلز کو سیاسی سرگرمی قرار دے کر پابندگی لگا دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اداروں میں نوجوانوں کو شامل کرنے اور ان کی آواز سننے کے بجائے فارم 47 کے نام پر خرید و فروخت کا بازار گرم کیا گیا،

جس کے منفی اثرات آج کے حالات میں واضح ہیں۔بی ایس او کوئٹہ زون نے کہا کہ ہم تعلیمی اداروں میں اسٹڈی سرکلز اور بحث و مباحثے پر پابندی کو کسی صورت قبول نہیں کرتے اور ایسے تمام لیٹرز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ بی ایس او کے تمام ممبران اپنی تعلیمی، فکری اور مثبت سرگرمیوں کو جاری رکھیں گے۔