کوئٹہ: کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا جانے والا مانگی ڈیم مقررہ مدت کے تین سال بعد اور 19800ملین روپے خرچ ہونے کے باوجود نامکمل، پی ایچ ای حکام کے مطابق منصوبہ 31مارچ 2026تک مکمل ہوگا ۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں اراکین کمیٹی زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی، صفیہ بی بی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل نورالحق، سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی، چیف اکاؤنٹس آفیسر PAC سید ادریس آغا اور ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، جاری اسکیموں، مالی بے ضابطگیوں اور آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ منگی ڈیم، جون 2022 میں مکمل ہونا تھا، جو کہ تاحال نامکمل ہے۔ اسکیم کے مطابق منگی ڈیم روزانہ 8 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جبکہ وئٹہ شہر کی یومیہ ضرورت 60 ملین گیلن ہے آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی اصل لاگت 9,334.078 ملین روپے تھی جبکہ اس کی نظرثانی شدہ لاگت13,247.893 ملین روپے ہے منصوبے کی لاگت میں 3,913.815 ملین روپے اضافہ ہوا ۔
کمیٹی نے منصوبے کی تاخیر اور لاگت میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں اب تک 42فیصد اضافہ ہوچکا ہے جبکہ یہ رقم 2025 میں مزید بڑھ کر تقریباً 19800 ملین تک پہنچ گئی ہے تاہم اب تک منصوبہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔کمیٹی کو سیکرٹری پی ایچ ای نے یقین دہانی کرائی کہ 31 مارچ 2026 تک منصوبہ مکمل کیا جائیگا۔ کمیٹی نے مذکورہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ پی ایچ ای کی مختلف ڈویڑنز نے 2019–20 تا 2021–22 کے دوران مختلف ٹھیکیداروں کو ضرورت سے زیادہ مقدار کی ادائیگی کی، جس کے باعث 64.131 ملین روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ نے بتایا کہ انجینئرنگ معیار اور قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ،سولر سسٹمز کے ڈیزائن میں ضرورت سے زیادہ واٹیج رکھا گیا،متعلقہ ڈویژنل افسران DAC اجلاسوں میں پیش نہیں ہوئے۔
کمیٹی نے محکمے کو ہدایت کی کہ اضافی ادائیگیوں کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔ سرکاری سولر سسٹم یا انورٹر چوری ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔کمیٹی نے اس پیرا کو مشروط طور پر سیٹل کر دیا تاہم محکمہ کو سخت ذمہ داری کا پابند بنایا گیا۔اجلاس میںبتایا گیا کہ پی ایچ ای ڈویژن گوادر اور لسبیلہ نے 2018-19 میں 975.816 ملین روپے کی ادائیگیاں واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی سپلائی پر کی گئی جس میں سے صرف ایک سال میں 956.989 ملین کی گوادر کے عوام کو ٹینکروں کے ذریعے پانی مہیا کیا گیا۔اس بارے میں، ریکارڈ، ڈلیوری شیڈول، تصدیقی تفصیلات اور MB کی درستگی دستیاب نہیں تھی۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں یہ معاملہ نیب کو بھیج دیا جائے گا۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ اگر ہنگامی صورتحال تھی تو بی پیپرا یا کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی جانی چاہیے تھی اگر خشک سالی تھی تو متعلقہ مراسلے کمیٹی کے سامنے پیش کیے جاتے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واضح کیا کہ محکمہ پی ایچ ای تمام منصوبوں کی تفصیلات، مالی ریکارڈ، ادائیگیوں اور آڈٹ اعتراضات پر 10 دن کے اندر مکمل ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو فراہم کرے ریکوریاں جلد از جلد یقینی بنائی جائیںترقیاتی منصوبوں خصوصاً منگی ڈیم کو جون 2022 کو مکمل ہونا تھا اب مقررہ مدت مارچ 2026 میں مکمل کیا جائے مالی بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات اٹھائینگے۔
آئندہ اجلاس میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو مدعو کیا جائے۔ اجلاس کے آخر میں کمپلائنس رپورٹ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور دوسری نشست میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔