کوئٹہ:سینئر سیاستدان سابق سینیٹرنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ہماری قومی وحدت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کو الاٹ کیا جارہا ہے ، آئندہ نسلوں کی با عزت زندگی کیلئے سیاسی جماعتوں کے پاس چل کر جارہے ہیں ، قانون کے سائے میں ہونے والے وسائل کی لوٹ مار کا راستہ روکیں،
یہ بات انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پران سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق احمد نواز بلوچ، ضلعی صدر غلام نبی مری، میر مقبول احمد لہڑی،حاجی وحید لہڑی و دیگر بھی موجود تھے۔ملاقات میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سمیت بلوچستان کے اجتماعی قومی امور اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچستان سات دہائیوں سے تکالیف، جبر اور استحصال کا شکار رہا ہے ایسے میں یقینا پارلیمانی سیاست کے ذریعے بھی بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کا ایک سامراجی قانونی طریقہ ہے،ہمارے قومی وحدت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کو الاٹ کیا جارہا ہے اور خدشہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہماری قومی سرزمین اور وسائل کو عالمی بینکوں میں گروی رکھیں گی اور ہم دہائیوں تک ان کے چنگل سے باہر نہیں نکل پائیں گے جو ایک خوفناک بات ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم آئندہ نسلوں کی با عزت زندگی کیلئے سیاسی جماعتوں کے پاس چل کر جارہے ہیں تاکہ اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے قانون کے سائے میں ہونے والے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کا راستہ روکیں،جو سیاسی جماعتیں اس وقت پارلیمان میں موجود ہیں ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سڑکوں، چوک چوراہوں پر واپس نہیں ہوگا اس کو اسمبلی نے ہی واپس لینا ہے او رہم اس کیلئے رابطے کررہے ہیں تاکہ جو سیاسی جماعتیں اس وقت اسمبلی میں موجود ہیں وہ ایک مشترکہ مسودہ تیار کرکے صوبائی حکومت سے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کے قانون کو واپس لینے کیلئے بات کریں
اگر صوبائی حکومت بلوچستان کے حقوق کا دفاع نہیں کرتی تو ہمارے پاس اور بھی سیاسی اور آئینی راستے ہیں ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرکے فروخت کیا جارہاہے،
ہمارے اکابرین کی جدوجہد کے نتیجے میں بلوچستان کو ملنے والے حقوق 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعدسلب کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ اس سرزمین کے لوگوں کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی اور یہ ہمارا قومی فریضہ بھی ہے سیاسی جماعتیں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کیساتھ ساتھ بلوچستان کے حقوق پر غیر آئینی قبضے، 26 ویں 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف مشترکہ جدوجہد کیلئے لا ئحہ عمل طے کریں ہم اس کاخیر مقدم کریں گے۔