|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران وادی کوئٹہ کے متعدد کنویں مکمل طور پر خشک ہو سکتے ہیں۔
یہ تشویشناک انکشاف مینیجڈ ایکویفر ریچارج سے متعلق انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے اشتراک سے منعقدہ وکشاپ میں سامنے آیا جس میں صوبے کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی کے لیے تفصیلی حکمت عملی مرتب کی گئی۔
تقریب میں IWMI، FAO، محکمہ آبپاشی، 12کور ملٹری انجینئرنگ سروسز (MES)، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR)، یونیسیف،واٹراینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (WASA)، کوئٹہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (WASA – Q) سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ نمائندگان، ماہرین آبیات، انجینئرز اور ترقیاتی ماہرین نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے آئی ڈبلیو ایم آئی پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا سطحی اور زیرِ زمین ذخائر دونوں کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح سے لے کر کیچمنٹ ایریاز تک بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے اقدامات نہ صرف شہری سیلاب کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ زیرِ زمین پانی کی بحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بہرحال کوئٹہ شہر میں آبی بحران کا مسئلہ دیرینہ ہے جس کی ایک بڑی وجہ غیر قانونی ٹیوب ویلز ہیںجن کی تعداد سینکڑوں میں ہیں جو زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کی وجہ بنی ہوئی ہیں۔
ان ٹیوب ویلز کے خلاف آپریشن ضروری ہے تاکہ پانی بحران پر قابو پایا جاسکے۔
کوئٹہ شہر کو آبی بحران سے بچانے اور زیر زمین پانی کو خشک ہونے سے بچانے کیلئے چھوٹے اور بڑے ڈیمز ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیں اور جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان کی جلدتکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
کوئٹہ شہر سمیت بلوچستان بھرمیں حالیہ شدید بارشوں کے باوجود آبی بحران اور زیر زمین پانی کا خطرناک حد تک تیزی سے کم ہونا المیہ ہے کیونکہ ان بارشوںکا پانی ضائع ہورہا ہے جسے محفوظ کرنے اور ذخیرہ کرنے کیلئے موثر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی جس سے سیلابی صورتحال کے باعث نقصانات بھی ہورہے ہیں اور پانی کا ضیاع بھی ۔حکومت کو چاہئے کہ بلوچستان میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے وفاق کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائے اور اس کے لیے خصوصی فنڈ مختص کی جائے تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔
اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے اور اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھرمیں آبی بحران زراعت کے شعبے کو متاثر کرے گا جبکہ انسانی بحران کا خدشہ بھی شدید ہوگا، لوگ نقل مکانی پر بھی مجبور ہونگے۔
پانی زندگی ہے لہذا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آبی ذخائر کو محفوظ بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *