کوئٹہ : چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہاہے کہ حکومت نے صوبے میں گڈ گورننس کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے 36 اضلاع میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور انتظامی آفیسران کی تعیناتی میرٹ پر کی ہے جبکہ امن کے قیام کے لئے آئی جی پولیس بلوچستان نے میرٹ کی بنیاد پر ایس ایس پیز اور ایس ڈی پی اوزلگائے ہیںان پر کوئی سیاسی دبائو نہیں چیک اینڈ بیلنس کو برقرار رکھنے کے لئے ڈیجٹلائزیشن کا عمل شروع کیا گیا ہے اور صوبے کے 4100 تعلیمی اداروں اور 164 بی ایچ یوز اور دیگرصحت کے مراکز کو بحال کیا گیا ہے۔
ریکوڈک سے بلوچستان کو بغیر کچھ خرچ کئے ہوئے 25 فیصد 1 ارب ڈالر سالانہ حصہ مل رہا ہے جس سے صوبے میں معاشی انقلاب برپا ہوگا اور یو اے ای کی کمپنی مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس کے آنے والے وقت میں دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اپنے دفتر میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نور کھیتران سمیت دیگر بھی موجودتھے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی سربراہی میں حکومت بلوچستان نے اچھی طرز حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد صوبے کے حالت زار کو بہتر بنانا ہے اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے امن و امان میں بہتری آئی ہے لیویز فورس جوکہ انگریز کے دور سے چلی آرہی ہے
اس میں جرائم میں ملوث لوگ بھی شامل تھے ریکارڈ چیک کرنے پر چیزیں سامنے آئی ہیں ایک شخص لیویز کے 104 ملازمین کو ذاتی حیثیت میں ان سے کام لے رہا تھا اور ایک شخص کے پاس 64 لیویز کے جوان ، گارڈ، مالی اور دیگر حوالوں سے کام کررہے تھے۔ بلوچستان میں امن و امان کی بہتری کیلئے بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت ہے سیکورٹی حالات بہتر ہونے سے صوبے میں بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیںاس میں بیورو کریسی، انتظامیہ اور سیاستدان ملکر حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے بروقت اجرا کو یقینی بنایا گیا ہے کیونکہ ماضی میں بجٹ کی منظوری کے بعد دوبارہ اسکیموں کی منظوری لی جاتی تھی جس کی وجہ سے فنڈ تاخیر سے ریلیز ہوتے تھے اور منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے لوگ ان منصوبوں کی افادیت سے مستفید نہیں ہوسکتے
اب ان اقدامات سے محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی کے صوابدیدی اختیارات ختم کردئیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے بلنگ کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کا موثر نظام بنایا گیا ہے مانیٹرنگ کمیٹی نے 4سو منصوبوں کا معائنہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 28 ماہ قبل بلوچستان میں 41 سو سکول بند تھے جنہیں فعال بنادیا گیا ہے اور اس وقت صوبے میں اب 98.8فیصد سکول فعال ہیں ۔ اسی طرح صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 37 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک پہنچا دی گئی ہے
حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں اضافے سے اس سال پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا بلوچستان میں 4 سو میں سے 164بنیادی مراکز صحت بند تھے جنہیں فعال کردیا گیا ہے اور ان سینٹروں میں ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی عملہ اور ادویات کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سے بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 6 سرحدی اضلاع میں انٹرپرائزز ٹریننگ پروگرام شروع کررہے ہیں پروگرام میں اس سال 10ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی بلوچستان میں معدنیات کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں سے معاشی انقلاب برپا ہوگا ریکوڈک کی وجہ سے تفتان کوئٹہ ریلوے سیکشن کی بہتری ہوگی ۔ ریکوڈک پر حکومت کی جانب سے کوئی وسائل خرچ نہیں کئے گئے بلکہ 25 فیصد حصہ کے تحت بلوچستان حکومت کو اس سے سالانہ 1 ارب ڈالر رقم ملے گی جو بلوچستان کے بجٹ کے برابر ہوگی اور ان اقدامات سے چاغی میں معاشی ترقی ہوگی اور علاقے کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 4 ار ب کی لاگت سے ماشکیل میں ڈیم بنایا جارہا ہے جس سے علاقے کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوگا 94 ارب روپے کی لاگت سے ریکوڈک سے چاغی اور دیگر علاقوں کو پانی کی فراہمی کیلئے پائپ لائن بھی بچھائی جائے گی
جس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا ۔صوبے میں پٹرول کی سمگلنگ روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے گئے ہیںپٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ سے ملک کو 700 سو ارب کانقصان ہوتا تھاماضی میں روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر پٹرول سمگل ہوتا تھاپٹرول کی سمگلنگ پر قابو پاکر 8 لاکھ لیٹر تک لے آئے ہیں انہوں نے بتایا کہ بیورو کریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جارہا ہے اور بلوچستان کے 36 اضلاع میں کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور انتظامی آفیسران میرٹ پر لگائے گئے ہیں اسی طرح آئی جی پولیس پر کوئی سیاسی دبائو نہیں ایک ضلع کے علاوہ تمام اضلاع میں انہوں نے پولیس آفیسران کی پوسٹنگ ٹرانسفر میرٹ کی بنیاد پر کی ہے جس سے امن کی بحالی میں مدد ملے گی۔ ایس بی کے یونیورسٹی کے ذریعے ٹیچرز کی بھرتی پر تحقیقات جاری ہیںبے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے پرملوث عناصر کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے پر صرف سیاستدانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اس میں بیورو کریسی کا بھی بہت بڑا کردار ہے اگر بیورو کریسی اپنی ذمہ داری پوری کرتی تو سیاستدان بھی اپنے فرائض کو احسن طریقے سے نبھاتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یو اے ای کی کمپنی کانکنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی ملے گی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں گیس کے جو ذخائر موجود ہیں وہ گھریلو استعمال کی بجائے صنعتی استعمال کے لئے سود مند ہے اور اس سے یوریا بنائیں گے اور مختلف کمپنیاں رجوع کررہی ہے یہ ذخیرہ 46 سال تک چلے گا اس لئے سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقے ڈیرہ بگٹی میں انڈسٹریل زون بنائیں گے جہاں پر اس گیس سے چلنے والی فیکٹریاں لگائی جائیں گی۔