|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2025

کوئٹہ: پنجاب کوٹہ پر میڈیکل کے سلیکٹڈ طلباء عبدالقدیر ، روشن حفیظ اور محمد شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ہر ڈویژن سے ایم ڈی کیٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات گڈول نشستوں کے لئے پنجاب کے میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا جاتا ہے حکومت بلوچستان اور میڈیکل کالج کے ذریعے تمام مراحل مکمل کرکے طلباء کو سلیکٹڈ کیا گیا اب نئی پالیسی جاری کرکے ہمارا داخلہ کو روک کر دوبارہ مقابلے میں شامل کرکے حق تلفی کی جارہی ہے

جوکہ قابل مذمت ہے ۔اس حوالے سے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک سال سے انتظار میں بیٹھے سلیکٹڈ طلباء کو ان کا حق دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر دیگر طلباء بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کے تمام دستاویزات بولان میڈیکل کالج میں جمع ہیں لسٹ بھی جاری کی گئی ہے اور انٹرویوز بھی مکمل ہوئے ہیں ۔

بولان میڈیکل کالج نے فائنل سلیکشن اور کالج کا انتخاب بھی کیا ہے صرف طلباء و طالبات تاریخ کے انتظار میں تھے کہ آخری مرحلے میں یو ایچ ایس نے اچانک پالیسی تبدیل کرکے بلوچستان بھر کے سلیکٹڈطلباء کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا کردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن وائز کوٹہ ختم کرکے اوپن میرٹ نافذ کردیا گیا اس فیصلے سے صرف ترقی یافتہ علاقے مستفید ہوں گے کوئٹہ اربن رورل اور لورالائی تک محدود ہوجائے گا جبکہ قلات، ژوب، سبی، رخشان، مکران اور دیگر پسماندہ ڈویژنز کے قابل طلباء حق سے محروم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یو ایچ ایس کی نئی پالیسی کے تحت نان لوکل امیدواروں کو بھی نشستیں ملے گی اور ان کا کوئی انٹرویو نہیں ہوگا پسماندہ علاقوں کے طلباء کا حقوق چھین کر ترقی یافتہ علاقوں کو دینا کاری ضرب ہے۔ ہماری سلیکشن مکمل ہونے کے بعد ایک سال انتظار میں بیٹھے رہے اب نئے امیدواروں کے ساتھ دوبارہ مقابلے میں شامل کرنا زیادتی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری بولان میڈیکل کالج پر عائد ہوتی ہے ۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فائنل سلیکشن کو بحال اور ہماری جوائننگ کی تاریخ جاری کی جائے۔ ڈویژن وائز کوٹہ بحال 2024ء کے امیدواروں کے داخلے کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنایا جائے۔