کوئٹہ : جمات اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت نے لانگ مارچ کے دوران ہمارے 8 مطالبات پر عملدرآمد کے لئے کئے گئے
معاہدے کے مطابق کمیٹی تشکیل نہیں دی جس کی وجہ سے یہ عمل التواء کا شکار ہے اس کے خلاف ہم 6 ماہ کی مدت پوری ہونے کے بعد بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے کوئٹہ یا پھر اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ کریں گے کوئٹہ میں 28 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات آئینی عدالت کی جانب سے ملتوی کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹر کو سپورٹ کیا ہے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر زاہد اختر بلوچ، عبدالنعیم رند، حافظ نور علی ، جمیل مشوانی، مرتضیٰ خان کاکڑ، عبدالولی شاکر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ 28 دسمبر کو کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ہورہے تھے جس کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھی لیکن آئینی عدالت کی جانب سے انہیں معطل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ عدالت کا کام ہے کہ آئین کو تحفظ دے نہ کہ بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرے اگر انتخابات ہوتے تو بلدیاتی سسٹم کو مالی اختیارات مل جاتے
حالانکہ یہ انتخابات تین سال قبل ہونے تھے لیکن آخری مراحل میں انہیں معطل کردیا گیا
28 دسمبر کو اس عمل کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے جس میں جماعت کے کارکن، کونسلر اور ذمہ داران شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کی تاریخ رہی ہے
کہ انہوں نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور ججز نے ہمیشہ جمہوریت کو سپورٹ کرنے کی بجائے ڈکٹیٹر کو سپورٹ کیا ہے جس کا ثبوت اکثر ججز کے فیصلے ہمارے سامنے ہیں
انہوں نے کہاکہ اس وقت وفاق اور بلوچستان میں برسر اقتدار بڑی پارٹیاں جن میں ایک نے جنرل ایوب اور دوسری نے جنرل ضیاء الحق کی شاگردی میں سیاست کی ہے اور ان کے گملوں میں پروان چڑھے ہیں اور چند خاندانوں کی ہمارے ملک میں اجارہ داری ہے جس کا واضح ثبوت ان میں سے کچھ عدالت میں، کچھ فوج میں کچھ بیورو کریسی اور سیاسی جماعتوں میں ہیں اور انہوں نے اس طرح اپنے قبضے کے تسلط کو برقرار رکھ کرملک اور قوم کا بیڑا غرق کیا ہے
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام اور صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور 25 جولائی کو 8 مطالبات جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی ، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ ، سیاسی کارکنوں کی رہائی امن وامان کا قیام شاہراہوں کو سفر کے لئے محفوظ بنانا ایف سی کو بلوچستان سے نکالنے سمیت چمن سے لیکر گوادر اور تفتان بارڈر تک بارڈر کو کھولنا اور لوگوں کے لئے متبادل روزگار کا بندوست کرنا ٹرالر مافیا سے ساحل کو پاک کرنا معدنیات کو تحفظ دینا اور الاٹ کی گئی اراضی کو واپس کرنا، ڈیتھ اسکواڈ، اغواء کاروں منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کرنا ریکوڈک ، گوادر اور سی پیک کے منصوبے عوام کے سامنے لانا بلوچستان میں سیاسی اور سرکاری معاملات میں عسکری مداخلت بند کرنا وغیرہ کے حق میں اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کا آغاز کیا لیکن لاہور میں مذاکرت کرکے چھ ماہ میں معاملات کو حل کرنے کے لئے تحریری معاہدہ کیا گیا جس کے تحت کمیٹی تشکیل دیکر ان معاملات کو بہتر بنانا تھا تا حال کمیٹی نہیں بنائی گئی اور حکمران لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں
جس کی وجہ سے ہم دوبارہ چھ ماہ کی مدت پوری ہونے کے بعد لوگوں کو متحرک کریں گے اور کوئٹہ سمیت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان خوف وہراس کی فضاء قائم کی گئی ہے اور عوام کے تحفظ کیلئے بننے والی فورسز اپنی حفاظت کے لئے ایک دو اور تین دیواریں بنارہی ہے اوروہ خود عدم تحفظ کا شکار ہے جس کی وجہ سے صوبے میں مایوسی، بے چینی اور ناراضگی ہے
یہاں کون حکمرانی اور فیصلے کررہا وہ سب کو معلوم ہے ہر چیک پوسٹ پر منتخب عوامی نمائندے سفید ریش اور ہماری مائوں کی تذلیل اور عزت نفس مجروح کی جاتی ہے میں تو چیک پوسٹ کے ایک کلو میٹر کے دور سے آیت الکرسی کا ورد شروع کردیتا ہوں اگر کوئی حقائق پر مبنی بات کرتا ہے تو اس کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا جاتا ہے یا پھر تھری ایم پی او کے تحت ایف آئی آر کرکے بند کردیا جاتا ہے بلوچستان کو قید خانے میں مقید کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں ایف سی قبول نہیںمیری رائے کہ میں اسے پاکستانی فورس نہیں سمجھتا اس لئے یہاں سے نکالنا چاہئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کریں
تاکہ ہمارے سسٹم کو قبضہ گیروں سے آزاد کرایا جاسکے۔بعدازاں مولانا ہدایت الرحمن اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاجی کیمپ میں گئے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی حمایت کی۔