کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی خدمات کو ضروری خدمات قرار دے دیا ہے۔
اس ضمن میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر SO(عدالتی) 1-12/2025-Edn:/1028-37 کے مطابق، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 پہلے ہی نافذ العمل ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ ایکٹ کے تحت تعلیمی خدمات سے وابستہ افراد کی جانب سے ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی نوعیت کے غیر قانونی اقدامات پر پابندی عائد ہے، جبکہ ایسے اقدامات کی صورت میں سزا کے لیے بھی قانونی انتظامات موجود ہیں۔ اس قانون کا مقصد صوبے میں تعلیم کی فراہمی کو اس کے حقیقی تناظر میں منظم اور بلا تعطل یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 کے سیکشن 6 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، محکمہ سکول ایجوکیشن نے عوامی مفاد میں فوری طور پر صوبے کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی دیگر غیر قانونی عمل پر چھ (06) ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔