کوئٹہ:چیف آف بگٹی قبائل وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال نے بیک وقت قبیلے کا عہدہ اور حکوومتی ذمہ داری ایک چیلنج ہے
بلوچستان کے قبائل کی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری سرداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی ریاست کا اپنا ایک کردار ہو تا ہے اگر قبائل اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط تعلق اور ربط ہو گا تو پھر یہ مسائل حل ہوتے ہوئے نظر آئیں گے
ان خیالات کااظہار ا نہوں نے گزشتہ روز اپنے آبائی علاقے بیکڑ میں چیف آف بگٹی قبائل کی دستار بندی کے موقع پر نجی ٹی وی چینل ہم نیوز سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا
میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ عہدہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، قبائل کی موجودہ صورت حال میں بیک وقت قبیلے کا عہدہ اور حکومتی ذمہ داری ایک چیلنج ہے میری فیملی، قبیلے اور تمام بڑوں نے یہ ذمہ داری مجھے اہل سمجھتے ہوئے میرے نا تواں کندھوں پر ڈالی ہے بلوچستان کے قبائل کی صورت حال کی تمام تر ذمہ داری سرداروں پر نہیں ڈالی جاسکتی، ریاست کا بھی اپنا ایک کردار ہوتا ہے اگر قبائل اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط تعلق اور ربط ہوگا تب جاکر یہ ایشوز حل ہوتے نظر آئیں گے،
ورنہ ممکن نہیں چھوٹے چھوٹے قبائل کے آپسی مسئلے تو حل کیئے جاسکتے ہیں، لیکن وہ قبیلے جن کے دو دو سو، تین تین سو لوگ قتل ہوچکے ہیں، جو ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں یا جو ریاست کے خلاف کھڑے ہیں، ان کو کیسے بٹھایا جائے میری کوشش ہوگی کہ تمام لوگوں کو ساتھ لیکر چل سکوں دوسرا چیلنج لڑکیوں کی تعلیم ہے، لڑکیوں کی تعلیم کی صورت حال بہتر ہونے کو اپنی کامیابی سمجھوں گا بیکڑ میں جو ترقی آپ نے دیکھی اس کے پیچھے پروگریسو مائنڈ ہے جب آپ کا لوگوں سے تعلق ہوتا ہے تو آپ ان کی ترقی اور بہتری کے لیئے کام کرتے ہیں دو تین چیزیں ترجیحی بنیادوں پر پورے بلوچستان میں کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے انفراسٹرکچر، پھر صحت اور پھر تعلیم، ہم بھی اس پر ہی فوکس کررہے ہیں اس سے بھی زیادہ اہم لوگوں کا روزگار ہے، سرکار سب کو نوکریاں تو نہیں دے سکتی
لیکن کم از کم روزگار کا ماحول اور مواقع تو دے سکتی ہے آئندہ دو سے 3 سال اگر اللہ نے ہمیں مزید موقع دیا تو آپ یہاں کی صورت حال دیکھیں گے میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی عوامی نمائندہ ہے، اس کو پورے بلوچستان اور کم از کم اپنے گھر یعنی علاقے کی صورت حال تو بہتر کرنے پر توجہ کرنی چاہیئے تاکہ حالات کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے ۔