ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے پسِ منظر میں عوامی شکایات اپنی جگہ جائز ہیں، تاہم انہوں نے بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو قرار دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
امریکی جریدے (بلومبرگ) تہران میں ہفتے کے روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مہنگائی اور کرنسی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث عوامی غصہ قابلِ فہم ہے، تاہم ان حالات کو ہوا دینے میں ریاست کے دشمنوں کا کردار شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بدامنی میں فرق ہے۔ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں۔ شرپسندوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔
قبل ازیں، ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کی شرح میں اتارچڑھاؤ سے متاثرافراد کا پرامن احتجاج ان کا جائزحق ہے، تشدد کے چند واقعات بھی سامنے آئے، امریکی صدرکوعلم ہونا چاہئےعوامی املاک پرمجرمانہ حملے ناقابل برداشت ہیں۔