|

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2016

اسلام آباد : پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آرز) طے کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں بھی کوئی پیشرفت نہ ہوسکی جس کے بعداجلاس منگل تک ملتوی کردیا گیا۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان شریف خاندان بچاؤ ٹیم ہے،جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ٹی او آرز وزیر اعظم سے شروع ہو کروزیر اعظم پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے ٹی او آر طے کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کا ساتواں اجلاس ہوا جس میں حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار، اکرم درانی، خواجہ سعد رفیق، زاہد حامد، انوشہ رحمان اور میر حاصل بزنجو شریک ہوئے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی، طارق بشیرچیمہ، الیاس بلور اور صاحبزادہ طارق اللہ شریک ہوئے تاہم ایم کیو ایم کے رکن بیرسٹر سیف اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔اجلاس کے دوران حکومتی ٹیم کی جانب سے وزیراعظم اور ان کے خاندان سے تحقیقات کے آغاز سے متعلق جواب دینا تھا تاہم کافی دیر تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان معاملات طے نہیں پاسکے جس کے بعد اجلاس منگل تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے بتایا کہ ضابطہ کار بنانے والی کمیٹی کے اجلاس میں ڈیڈلاک برقرار ہے جبکہ اجلاس گفتند ،نشستند، برخاستند تھا۔پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے رکن شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے خاندان کا احتساب نہیں چاہتی جس کی وجہ سے بات پہلے سے بھی زیادہ بگڑ چکی ہے، حکومت پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے غیر سنجیدہ ہے۔شاہ محمود نے بتایا کہ میں یہاں سے ناامید ہوگیاہوں لہذا اس کمیٹی میں ہمارے لیے مزید بیٹھنا بے سودہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے پانامہ پیپر کو دو تین ہفتوں کی کہانی قرار دے کر عوامی ایشو ماننے سے انکار کردیا ہے، جبکہ اب ٹی اوآرز کمیٹی کے مزید اجلاس میں بیٹھنا فضول ہوگا۔ حکومت اجلاس دراجلاس سے وقت حاصل کررہی ہے۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی کہوں گاکہ مزیدنشستوں میں بیٹھنے کاکوئی فائد ہ دکھائی نہیں دے رہا،آج کی کمیٹی کے بعد مجھے ٹی او آرز کمیٹی کا کوئی مستقبل دیکھارئی نہیں دے رہا ،حکومت کی ذہنی عکاسی سامنے آ گئی ہے اب پاکستان کے وکلاء کو کردار ادا کرنا ہو گا،میں اپنا پوائنٹ آف ویو چےئرمین تحریک انصاف عمران خان صاحب کے سامنے رکھوں گا ،حکومت نہیں چاہتی ہے فیصلے بیٹھ کر حل ہو جائیں۔شاہ محمودقریشی نے مزید کہا کہ آئندہ اجلاس میں شرکت سے متعلق پارٹی سے مشاورت کروں گا، انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پارلیمنٹ نے 65افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے ،موساک فونسیکا کو بلا یا جائے گا او ر وہ اس کے پیپرز کافرانزک آڈٹ کروایا جائے گا اس کو کہتے ہیں احتساب کرنا۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگلی میٹنگ میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،آئندہ میٹنگ کے لیے متحدہ اپوزیشن کو مل کر فیصلہ کرنا ہو گا،کہ آئندہ میٹنگ میں جانا ہے یا نہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما الیاس بلور نے کہا ہے کہ ٹی او آرز کمیٹی میں کوئی آئے یا نہ آئے میں جاؤں گا،یہ میری پارٹی کا فیصلہ ہے ،شاہ محمود قریشی اپنی پارٹی کو مشورہ دے سکتے ہیں مجھے کسی کی ڈیکٹیشن کی ضرورت نہیں ہے،ہم حکومت کاساتھ نہیں دے رہے اور نہ ہی ہمیں کو ئی وزارت مل رہی ہے،ٹی او آرز کمیٹی کے حوالے سے میں اپنے بھائی غلام محمد بلور کو رپورٹ کرتا ہوں،اس حوالے سے میں نے اسفند یار ولی سے کبھی بات نہیں کی ،ہم متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں آج کی کمیٹی میں کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔بعد ازاں سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اور ٹی او آر کمیٹی کے رکن سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہم اپنے مؤقف پرآج بھی قائم ہیں، سب کا یکساں احتساب چاہتے ہیں ،سب سے پہلے احتساب کا عمل وزیراعظم اوران کے خاندان کے افراد سے شروع کیا جائے،ہم ہر وقت پر امید رہنے والے ہیں کبھی ناامید نہیں ہوئے ہمیں حکومت سے مثبت رویہ اختیار کرنے کی توقع ہے۔وہ جمعہ کو ٹی او آرز کمیٹی سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کر ر ہے تھے۔سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ وقت مناسب نہیں کہ بتاسکیں کہ اس وقت مذاکرات کس مرحلے میں ہیں، مناسب وقت پر ٹی او آرز کے سارے معاملات اور تمام اختلافی نکات قوم کے سامنے آئیں گے اوراگر ضروی ہوا تو مذاکرات کے تمام مراحل پر قوم کو اعتماد میں بھی لیا جائے گا۔ سینیٹر اعتزاز احسن کہ ٹی او آرز پر اگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو اپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھے گی اور سڑکوں پر جانے کا فیصلہ بھی مشاورت سے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مؤقف پرآج بھی قائم ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سب کا احتساب یکساں ہو اورسب سے پہلے احتساب کا عمل وزیراعظم اوران کے خاندان کے افراد سے شروع کیا جائے،ہم ہر وقت پر امید رہنے والے ہیں کبھی ناامید نہیں ہوئے ہمیں حکومت سے مثبت رویہ اختیار کرنے کی توقع ہے اگر پیشرفت کے تھوڑے سے امکان ہوئے تو ہم بھی بھرپور طریقے سے آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ کہ آج کی میٹنگ کے بعد فیصلہ کرینگے کہ معاملے پر مزید کمیٹی میں بیٹھا جائے یانہیں، آج بھی اگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو اپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھے گی، تاہم پیش رفت کے تھوڑے سے امکان پر بھی آگے بڑھیں گے۔ اپنا ذہن بند نہیں کیا، چاہتے ہیں سب کا احتساب ہو۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ آج کی میٹنگ کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کمیٹی میں بیٹھا جائے یا نہیں، ٹی اوآرز پر اپنے موقف پر آج بھی قائم ہیں، سب سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کا احتساب چاہتے ہیں۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم سب کا یکساں احتساب چاہتے ہیں، تاہم سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد کا احتساب ہوناچاہیے۔