|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر ملکی سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر میڈیا کو جنرل ہیڈک وارٹر راولپنڈی میں بریفنگ دے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، جس میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2025 میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو کسی ایک مخصوص تاریخ سے جوڑنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک مسلسل اور ہمہ وقت جاری عمل ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنۃ الہندوستان کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایسے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف اور بیانیے کو تسلیم کیا ہے، جو ملک کے لیے ایک اہم سفارتی اور اخلاقی کامیابی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام فریقین کا اتفاق رائے موجود ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔

انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 5 ہزار 397 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور مشکل جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بڑی قربانیاں دیں، اور گزشتہ سال 1 ہزار 235 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔

اُن کے مطابق پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً ڈھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد مارے گئے۔ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے۔ افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حقیقت میں اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اتحادی افواج نے افغانستان میں 134 ارب ڈالر خرچ کیے، اس کے باوجود وہاں پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واجح مؤقف دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر پاکستان کے مقابلے میں کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اکتوبر کے مہینے میں پاک افغان سرحد پر سنگین جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران افغانستان سے پاکستان کی سرحدی پوسٹوں پر براہ راست حملے کیے گئے، جس کے بعد پاکستان نے سرحد بند کر کے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ خوارجی دہشتگردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے افغانستان پر آپریشن سندور جیسا حملہ کیا، اب تک سندور کی کالک بھارت کے منہ سے نہیں جارہی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے افغانستان کو بطور پراکسی استعمال کرنے کی کوشش کی، پاکستان نے افغانستان کو پہلے ہی یہ پیغام دیا تھا کہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ہندوستان کون ہوتا ہے کسی پاکستانی کو سزا دینے والا، پاکستان کسی بھی بیرونی طاقت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی پاکستانی کو سزا دینے کا خود ساختہ کردار ادا کرے۔

انہوں نے وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی پاکستانی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کہاں واقع ہیں اور تمام بڑے دہشت گرد حملوں میں افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں 21 معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا، نوشکی میں بس میں مسافروں کو شہید کیا گیا، کیڈٹ کالج وانا پر اے پی ایس طرز کا حملہ کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان سے آنے والا ہر دہشت گرد مارا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ا بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشتگردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے اسکولوں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔  

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تین مختلف سطحوں پر لڑی جا رہی ہے، جس میں سرحدی محاذ، داخلی سیکیورٹی اور جدید ٹیکنیکل جنگ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر پاک فوج کے جوان براہ راست دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں اور دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سرحدی علاقوں میں باڑ کے اطراف بھی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور خوارج کی منظم تشکیلوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں دہشت گرد امجد کو بھی دراندازی کے دوران مارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں اور اب تک حملوں میں 410 کوارڈ کاپٹر ڈرونز استعمال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئی ای ڈیز اور دیگر جدید ہتھیار بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد اکثر مساجد، بچوں اور آبادی کو اپنی ڈھال بناتے ہیں، جو نہ صرف انسانیت بلکہ مقامی روایات کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آبادی کو ڈھال بنانا پختونوں کی روایت ہو سکتی ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ کوارڈ کاپٹرز صرف وہاں استعمال کیے جاتے ہیں جہاں معصوم شہری موجود نہ ہوں، جبکہ پاکستان ڈرونز کو بنیادی طور پر نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ریاست، عوام اور افواج پاکستان مکمل طور پر متحد ہیں اور افواج پاکستان اور عوام کے درمیان کسی قسم کا کوئی خلا موجود نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے حوالے سے کہا کہ 2025 میں کئی پردہ نشین عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کی جاتی ہے اور بعض تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد بھی اس میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اکاؤنٹس سے دہشت گردوں کے حق میں بیانات دیے جاتے ہیں اور یہ عناصر دہشت گردوں کے نام نہاد انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب دنیا کھل کر افغان دہشت گردوں کے خلاف بات کر رہی ہے اور یورپ سمیت مختلف خطوں سے افغان دہشت گرد عناصر کو نکالا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اس امر کی نشاندہی ہو رہی ہے کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور ان کی موجودگی سے عالمی سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کوئی باقاعدہ حکومت نہیں بلکہ ایک گروہ ہیں جنہوں نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے تو باقی ممالک میں اس کے اثرات کیوں کم نظر آتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک سادہ سا سوال نہیں بلکہ اس کے پیچھے زمینی حقائق، جغرافیہ اور ہمسایہ ممالک کی صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون سا پڑوسی ملک افغان طالبان سے مطمئن ہے، یہ سوال خود بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک شعری انداز میں کہا کہ “جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے”، جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی ایک فریق حقیقت کو تسلیم نہ بھی کرے تو دنیا بھر کے ممالک زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے اثرات کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے اور اب عالمی برادری بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ کہتے ہیں باقی ممالک میں افغانستان سے دہشت گردی کیوں نہیں ہو رہی، بتائیں کون سا پڑوسی ملک افغان طالبان سے خوش ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کون پاکستان کو ڈالر دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا حکومت نے کس کو دیے ہیں، معدنیات کی دولت امن کے بغیر نہیں نکالی جاسکتی، معدنیات کا فائدہ مقامی آبادی کو ملنا چاہئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ یہ کہتے ہیں فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پر کام کرتی ہے، یہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں کرنے دیں گے، سوات میں بڑی قربانیوں کے بعد امن قائم ہوا، کیا آپ سوات میں دہشت گردوں کی اجارہ داری چاہتے ہیں؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اے این پی اور دیگر غیور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوئیں، یہ خود فتنہ الخوارج کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اس سیاسی جماعت پر حملہ کیوں نہیں کرتی؟ کیونکہ یہ فتنہ الخوارج کے منظورِ نظر بننا چاہتے ہیں، یہ سیاسی جماعت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ویڈیو چلاتے ہوئے کہا کہ یہ صاحب مضحکہ خیز قسم کی گفتگو کیوں کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پرتمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، نیشنل ایکشن پلان میں پاک فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، کچھ کام صوبائی حکومت، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوآرڈینیشن کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان قیام امن کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں، یہ کوآرڈینیشن کمیٹیاں ضلعی سطح پر کام کررہی ہیں۔