|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں۔ بطور کمانڈر اِن چیف ان کے اختیارات کو صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور سوچ محدود کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین یا دیگر ضوابط ان کے فوجی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

ایک تفصیلی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر طاقت کے استعمال سے متعلق اپنے سخت اور غیر روایتی نظریے کا کھل کر اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بطور کمانڈر اِن چیف ان کے اختیارات کو صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور سوچ محدود کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین یا دیگر ضوابط ان کے فوجی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

اِنٹرویو میں جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی عالمی طاقت پر کوئی حد لاگو ہوتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا دماغ یہی واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کے خواہاں نہیں ہیں۔ تاہم جب ٹرمپ سے مزید سوال کیا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گے کہ یہ پابندیاں امریکا پر کب اور کیسے لاگو ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پہلی بار انتہائی دو ٹوک انداز میں اس نظریے کا اظہار کیا کہ عالمی سیاست میں طاقت کا فیصلہ قوانین، معاہدوں اور روایات کے بجائے قومی قوت کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق فوجی، معاشی اور سیاسی طاقت کے تمام ذرائع استعمال کر کے امریکی برتری کو یقینی بنانا ان کی ترجیح ہے۔


ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا،ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہےکہ ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

عوام سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانیوں سے اتحاد کو برقرار رکھنے کی تاکید کی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کرٹرمپ کوخوش کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔

سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،  28 دسمبر سے جاری مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ  ایران میں احتجاج کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کو بھی مکمل طور پر بند رکھا گیا ہے۔