کوئٹہ: ایرانی قونصل جنرل محمد کریم تودیشکی نے کہا ہے کہ ایران میں حالیہ حالات کو کشیدہ بناکر اقتصادی صورتحال اور معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی
جس کو ایرانی حکومت نے بہتر حکمت عملی کے ذریعے اصلاحات کے ذریعے حالات پر قابو پاکر لوگوں کی مشکلات اور مسائل کے حل کو یقینی بنایا ایران پاکستان کے ساتھ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لئے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کرکے اس اقدام کو عملی جامہ پہناکر دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب کے پروگرام ’’حال احوال ‘‘ میں اظہار خیال اور صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید اور دیگر بھی موجود تھے۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہاکہ گزشتہ سال 28 دسمبر سے امسال 8 جنوری تک ایران میں احتجاج کے دوران پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کا سلسلہ جاری رہا او ران احتجاج کی آڑ میں ایران کی حکومت عوام مساجد ، کاروباری مراکز اور ایرانی حساسوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے واضح احکامات کی روشنی میں ایران کے وزیر داخلہ ، زراعت سمیت دیگر وزراء نے جس طرح لوگوں کی مالی مشکلات اور اقتصادی صورتحال پر قابو پانے کے لئے اپنے اصلاحات کرکے لوگوں کو ریلیف دیا گیا
وہ دنیا کے سامنے احتجاج کی آڑ میں شامل کچھ عناصر جو بیرونی تربیت یافتہ تھے انہوں نے احتجاج کی آڑ میں قتل و غارت گری اور خون خرابہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی حکام اور فورسز نے بہتر حکمت عملی کے تحت ان حالات پر قابو پاکر ایران کے دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا کیونکہ احتجاج کی آڑ میں مسافر بسوں، ہسپتالوں، مساجد ، امام بارگاہوں اور دیگر چیزوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اس لئے ان کوششوں کو روکنا ناگزیر تھا اور جب اس صورتحال پر قابو پایا گیا تو ایرانی عوام نے سڑکوں پر نکلنے والے عوام کے جم غفیر نے حکومت کی حمایت کی اور شر پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنایانیٹ کی بندش بیرونی عناصر کی احتجاج میں شامل شر پسند عناصر سے رابطوں کو روکنا تھا کیونکہ وہ تربیت یافتہ عناصر حالات خراب کررہے تھے۔
ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ اس وقت ایران میں مکمل امن ہے اور کاروبار زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں ایران کی کوشش ہے کہ تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کو پروان چڑھائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ایران نے تا حال سی پیک منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کی اگر ایسا اقدام اٹھایا گیا تو میڈیا کو آگا کیا جائے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ روس کے توسط سے اسرائیل سے رابطوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں انہوں نے ایران پر مشکل حالات میں پاکستان کی جانب سے کھڑا رہنے پر ان کا شکریہ ادا کیا کیونکہ ایران پاکستان پر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں پاکستان سمیت تمام ممالک کے لئے سرمایہ کاری کی اجازت ہے اس وقت زیادہ تجارتی حجم پاکستان کے ساتھ ہے
دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دیا جائے گا ایرانی حکومت کی ہدایت ہے کہ زیادہ تر اشیاء پاکستان سے خریدی جائیں اور ایرانی صدر پشگیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے ساتھ ایرانی تجارتی کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا جو معاہدہ ہوا ہے اس پر عملدرآمد کرکے دونوں ممالک کے تجارتی اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ باہر بیٹھے لوگوں نے اے آئی سے ویڈیو بنائی ایران مخالف بیرونی تربیت یافتہ لوگ حالات خراب کررہے تھے۔
ایران جارحیت کے خاتمے کیلئے ہمیشہ مذاکرات اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کو تیار ہے۔
پاکستان کے ساتھ ہمسائیگی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں،ایران پاکستان کا شکر گزار ہے کہ جس نے مشکل حالات میں ساتھ دیا۔
ایران انقلاب اسلامی کے بعد سے اقتصادی پابندیوں کا شکارہے ۔ دونوں ممالک میں تجارت اور دیگر روابط کو مضبوط بنانے کے مواقع موجود ہیں۔