|

وقتِ اشاعت :   January 24 – 2026

کوئٹہ:شمالی اور بالائی بلوچستان میں برفباری کا سلسلہ تھمتے ہی شدید سردی اور سائبرین ہواؤں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ کوئٹہ، زیارت، قلات اور چمن سمیت مختلف اضلاع میں شدید لہر کے باعث معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔

پانی منجمد، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

شدید سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ، زیارت اور قلات میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم چکا ہے۔ سڑکوں اور تالابوں پر بھی برف کی تہیں جم جانے کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں اور بالائی اضلاع میں پارہ منفی 12 (-12°C) تک گرنے سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

شاہراہوں کی صورتحال اور سفری پابندیاں

برفباری کے باعث مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا ہے:

این-50 ژوب ہائی وے: کئی مقامات پر برف کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہے۔

کوئٹہ زیارت شاہراہ: سڑک پر برف کی موجودگی کے باعث آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

سیاحوں کے لیے الرٹ: انتظامیہ نے خراب موسم اور پھسلن کے باعث سیاحوں کے زیارت جانے پر اگلے 24 گھنٹوں کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

انتظامیہ کا ریسکیو آپریشن

حالات پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) متحرک ہے۔ شاہراہوں سے برف ہٹانے کے لیے جدید مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ گاڑیوں کی پھسلن روکنے کے لیے متاثرہ مقامات پر نمک پاشی کا عمل جاری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو جلد بحال کیا جا سکے۔

شہریوں اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔