کوئٹہ : سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر بلوچستان پیس فورم کے سربراہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ معاشرے کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لئے نوجوانوں کو ڈگری کے حصول کے ساتھ ساتھ سروس ڈلیوری پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ ڈگری انہیں اپنے وسائل اور سرزمین کا مالک نہیں بناسکتی
ہمیں ذاتی اور گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے مسائل کے حل کو ممکن بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو الحمد فاؤنڈیشن سکولز کے زیر اہتمام منعقدہ میگا لانچ پروگرام کے دوران شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر الحمد فاؤنڈیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن، لالا محمد یوسف خلجی، زاہد اختر بلوچ، پروفیسر عابد سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات طلباء اور طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر پروفیسر جلیل عالی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔
نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ مختلف بحرانوں کا شکارہے جس کی بڑی وجہ مالی، انتظامی کرپشن ہے
کیونکہ آج فورم سے میں مخاطب ہوں انہوں نے تعلیم حاصل کرکے کل ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے ڈگری اور اس کے بعد ملازمت کا حصول ہماری ترجیح ہوتی ہے حالانکہ ڈگری ہمیں کسی بھی صورت میں مل سکتی اصل چیز ملک اور قوم کے لئے سروس ڈلیوری ہے جس کے نہ ہونے کی وجہ سے آج معاشرہ مختلف مسائل اور بحرانوں سے دو چار ہے ہر ایک شخص کو پتہ ہے کہ سماج کی تعمیر و ترقی علم اور بہتر عمل سے ممکن بنائی جاسکتی ہے
انہوں نے کہاکہ آج کے فورم سے ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہی پیغام پہنچانا ہے کہ جس بحران سے ہمارا معاشرہ اور ہم سب دو چار ہے اس کی صحیح تشخیص کرکے سروس ڈلیوری کو بہتر بنانا ہوگا کیونکہ اس وقت ہر شخص ہر طبقہ اور ہر موقع پر مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانی صورتحال زیر بحث رہتی ہے لیکن اس خوفناک بحران اور صورتحال سے نکلنے اور چھٹکارا پانے کے لئے کوئی شخص حل نہیں بتاتا اور نہ ہی اس کا تعین کرنے کیلئے تیار ہے
اس لئے معاشرے اور سماج کی بہتری کے لئے ذاتی اور گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا تاکہ اجتماعیت کی بہتری کے لئے ترویج دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان تعلیم کا حصول ڈگری حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں لیکن ڈگری مختلف جائز اور ناجائز طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اصل معاملہ سروس ڈلیوری ہے جب تک ہم منفی سوچ اور ذاتی و گروہی مفادات کو پس پشت نہیں ڈالیں گے آگے نہیں بڑھ سکتے
ہماری ترجیحات، ریاست، معاشرے اور سماج کی بہتری سے جڑی ہونی چاہئے طالب علم اساتذہ اور والدین کو اپنے بچوں کو یہی ترغیب دینی چاہئے کہ وہ معاشرے کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں نہ کہ صرف ڈگری کے حصول کو فوکس بنائیں کیونکہ قومیں ڈگری سے نہیں بنتی اور نہ ہی ڈگری ہمیں اپنی سرزمین اور وسائل کا مالک بناسکتی ہے تعلیم حاصل کریں بحرانوں سے نکلنے ایک باعزت باوقار معاشرے اور سماج کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ان بحرانوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ علم شعور دیتا ہے ہمیں آگے بڑھتے ہوئے اس شعور کو پروان چڑھا کر معاشرے اور قوم کی خدمت کرناہوگی میرا اور ڈاکٹر شکیل کا رشتہ کتاب سے جڑا ہے کیونکہ کتاب بہترین دوست ہے اور یہی معاشرے کی بہتری کے لئے انسان میں شعور و آگاہی دیتی ہے میں الحمد فاؤنڈیشن کی لائبریری کیلئے 100 کتابوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتا ہوں
انہوں نے کہا کہ لائبریری میں ہماری بچیوں کیلئے تعلیم کے حصول کی سہولت فراہم کی جائے اس موقع پر پروفیسر جلیل عالی نے کہاکہ الحمد فاؤنڈیشن انسانیت کی بہتری اور معاشرے کی اصلاح کے لئے بہتر خدمات سر انجام دے رہی ہے ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہئے اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور تقریب میں فاؤنڈیشن کے ملازمین اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں میں گفٹ اور شرکاء میں شیلڈ اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے۔
Leave a Reply