کوئٹہ : کوئٹہ کی رہائشی بی بی شاہدہ نے کہا ہے کہ 13 روز گزرنے کے باوجود میرے تنویر احمد اور بشیر احمد کو رہا نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز عدالت روڈ پر بلوچ فار مسنگ پرسنز کے کیمپ میں چیئرمین نصر اللہ بلوچ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ 3 فروری کی رات ایک بجے ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے گھر واقع کلی بنگلزئی سریاب کسٹم پر چھاپہ مارا،
میرے دو بیٹے تنویر احمد اور بشیراحمد ولد شبراحمد کو اپنے ہمراہ لے گئے کہ پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیں گے لیکن 13 روز گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی انہیں چھوڑا جارہا ہے جسکی وجہ سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہے۔ میرا بیٹا تنویر احمد 17 سال جبکہ دوسرا بیٹا بشیراحمد کی عمر 15 سال ہے اور میرا شوہر فوت ہوچکا ہے
میرے بیٹے یتیم ہیں میں ایک بے سہارا ماں ہوںاس لئے اپنے بیٹوں کی بحفاظت بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ آکر اپنی فریاد میڈیا کے توسط سے حکام بالا تک پہنچارہی ہوں تاکہ کوئی میری آواز اور التجاکو سنے اور میرے بیٹوں کی رہائی میں اپنا کردار ادا کرے۔
میری میڈیا کے توسط سے اعلی حکام سے اپیل ہے کہ وہ میرے بیٹوں کی بازیابی کو یقینی بنائیں میرے بیٹے معصوم اور بے گناہ ہے اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کرکے مجھے میرے بیٹوں کی جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات دلائی جائے۔
Leave a Reply