کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبودِ آبادی پرنس آغا احمد عمر احمدزئی کی زیرِ صدارت محکمہ بہبودِ آبادی بلوچستان کے زیرِ اہتمام تیسری صوبائی ٹاسک فورس (PTF) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری بہبودِ آبادی ظفر بلیدی، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی مسٹر ایوب بنگلزئی، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ شیہک بلوچ، سپیشل سیکرٹری فنانس محمد عارف، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر غلام فاروق، سپیشل سیکرٹری سکولز عبدالسلام اچکزئی، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی عبدالباسط بزدار، روشن خورشید بروچہ، صوبائی نمائندگان UNFPA، WHO، FPAP، PPHI اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ صوبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مؤثر نظم و نسق کے لیے صوبائی ٹاسک فورس ایک کلیدی پلیٹ فارم ہے، جہاں بین المحکماتی ہم آہنگی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال2025-26کے دوران مانع حمل ادویات کی خریداری، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 73 افسران کی تعیناتی، ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل کی صوبائی کابینہ سے منظوری اور نجی ہسپتالوں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدات اہم پیش رفت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے اب تک 15 ہوم بیسڈ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، 151 سروس پرووائڈرز کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور مختلف اضلاع و ڈویiنل ہیڈکوارٹرز میں آگاہی و ایڈووکیسی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے زور دیا کہ پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں دفاتر کی تعمیر کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے جائیں۔ مزید برآں، ابلاغی و آگاہی سرگرمیوں اور میڈیا مہمات کے لیے ہر سال 100 ملین روپے مستقل بنیادوں پر مختص کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ کمیونیکیشن اور ایڈووکیسی کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے۔
انہوں نے موبائل سروس یونٹس کی تعداد 56 سے بڑھا کر 76 کرنے، ہر ضلع میں مزید 10 موبلائزرز کی تعیناتی، خدمات کے انضمام (Integration) کو مضبوط بنانے اور کموڈیٹیز سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس میں پی ٹی ایف کے اراکین نے متفقہ طور پر ترقیاتی بجٹ میں اضافے، کمیونیکیشن و ایڈووکیسی کے لیے مستقل فنڈنگ، مؤثر میڈیا کمپینز کے اجرا، خدمات کے بہتر انضمام اور مانع حمل ادویات کی مسلسل دستیابی (Commodity Security) کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری بہبودِ آبادی ظفر بلیدی نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی مؤثر عملدرآمد کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی؛ پہلی کمیٹی مالی امور اور بجٹ کی نگرانی کرے گی جبکہ دوسری کمیٹی خدمات کی فراہمی اور کارکردگی کا جائزہ لے گی۔اجلاس میں صوبے میں آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے اور بین المحکماتی و بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کی۔
Leave a Reply