کوئٹہ: کوئٹہ کے جید علماء کرام مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن ،علامہ محمد جمعہ اسدی ،مولانا انوارالحق حقانی ،قاری عبدالرحمن نورزئی اوردیگر نے کہا ہے کہ بندوق کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے
بلوچستان میں جاری بدامنی کے خاتمے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں علماء کرام اور مشائخ اپنا کردارادا کرنے کیلئے تیار ہیں ،حکومت تمام لاپتہ افراد کی شفاف تحقیقات کرائے اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے تو اسکا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے
گوادر سی پیک اور معدنی منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار اور شراکت دی جائے تاکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی اور بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں’’ بلوچستان میں قیام امن اوراعتماد سازی کی اہم امید علماء و مشائخ کی منصبی ذمہ داریوں‘‘کے عنوان سے سیمینار کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی مداخلت کو ایک بہت بڑ سبب سمجھتے ہیں
اس میں اسرائیل ،بھارت،یورپ اورامریکہ پاکستان ،افغانستان اورایران میں جنگ کروانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں چاہتے اختلافات،نفرت ،بدگمانی ،عداوت پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انکے درمیان اسلام کی بنیاد پر کوئی اتحاد نہ ہو ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شورش اس لئے برپاکی گئی ہے کیونکہ پاکستان اسلامی عالمی اتحاد میں بنایدی کرداراد ا کررہا ہے پاکستان کے اسلامی کردار کو روکنے کیلئے سازشیں ہورہی ہیں ان ساری سازشوں کی بنیاد کانسپیریسی تھیوری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2006میں پاکستان کے سابق وزیردفاع اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ و سابق گورنر نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت نے بلوچستان کو ایک ایسی خونی دلدل میں دھکیل دیا جس کے بھیانک نتائج آج بھی سب کے سامنے ہیںآج بلوچستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑآ ہے جس میں ایک راستہ مکمل آزادی کی طرف جاتا ہے تو دوسرا راستہ بنیادی حقوق کے حصول کی جانب جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کی بجائے انصاف ،مکالمے ،ثالثی اوراسلامی اصولوں کے مطابق مصالحت میں ہے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں فریقین کے درمیان صلح کرانے کو دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے سیمینار نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے صوبے میں صاف و شفاف انتخابات،مقامی آبادی کووسائل میں حق دینے،تعلیم ،رروزگار کے مواقعوں کی فراہمی ،سرحدی تجارت کے منظم راستے ،منشیات و ٹرالر مافیا کا خاتمہ ،جبری گمشدگیوں کا حل اور علماء و معتبر شخصیات پر مشتمل مصالحتی کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی ترقی پر خرچ کیا جائے گوادر سی پیک اور معدنی منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار اورشراکت دی جائے ،تمام لاپتہ افراد کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے تو کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور بے گناہ افراد کوفوری طور پر رہا کیا جائے
انسانی حقوق کمیشن کو با اختیار بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر شدت پسندی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جس کے خاتمے کیلئے انہیں فنی و تکنیکی تعلیم فراہم اورمقامی صنعتوں کوفروغ دیا جائے سرکاری و نجی شعبے میں بلوچستان کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر مقامی محرومیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کے خاتمے کیلئے سرحدی نگرانی مضبوط کی جائے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیکر انٹیلی جنس نظام بہتر بنایا جائے عوام کوریاست کا شراکت دار بنایا جائے اور مشکوک نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے بلوچستان کے جید علماء کرام اور مشائخ اپنا کرداراد اکرنے کیلئے تیار ہیں اگر علماء کرام کو کوئی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو اسے احسن طریقے سے نبھائیں گے۔
Leave a Reply