کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے میں اسٹریٹیجک پراجیکٹس پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا
جس میں اسٹریٹیجک پراجیکٹس میں پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام پراجیکٹس کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور تمام منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور ان منصوبوں سے نہ صرف بنیادی سہولیات میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے کا مجموعی منظرنامہ بدل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے 1663نئے سکولز کھولے جس کے باعث بچوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے اور 1 لاکھ سے زائد بچوں نے ان سکولوں میں داخلہ لیا ہے اور مارچ میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائیگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت صوبے میں 229 ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 682 منصوبوں پر کام جاری ہیں
اور 3000 سکولوں میں 2 اضافی کمرے بھی تعمیر کیے جائیں گے جن میں ابھی تک 4 اضلاع میں تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔
اس کے علاؤہ سٹریٹیجک منصوبوں میں رواں سال پہلے مرحلے میں 8 ٹاؤنز کو سولر سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی، کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ، مختلف سکولز اور کالجز میں 1149 جگہوں پر فائبر آپٹک کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی، شہروں کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ، میونسپل سروسز بہتر کرنے، عوام کی شکایات کے ازالے کا طریقہ کار، پینے کی صاف پانی کی فراہمی اور شہری ترقی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کی معیار زندگی بہتر ہو جائے گی۔
Leave a Reply