کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میںگوادر کے علاقے جیونی کے شہداء کی برسی کی مناسبت سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ21فروری 1987میں جیونی کے شہریوں نے پینے کے صاف پانی کے حصول کے لئے ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی ، مظاہرین میں 11سالہ یاسمین بلوچ بھی شامل تھیںجنہیں شہید کر دیا گیا
اس موقع پر درجنوں زخمی بھی ہوئے انتظامیہ نے مظاہرین کو پانی فراہمی کی سیاسی ، آئینی ، جمہوری مطالبے کو تسلیم کرنے کی بجائے طاقت کے زور پر ریلی کو منتشر کیا اور نہتی یاسمین بلوچ کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا اور یہ ثابت کیا کہ انتظامیہ اور حکمران گوادر کے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لئے مخلص نہیں ہیں ان کی نظریں گوادر کے ساحل و سائل پر مرکوز ہے اور آج بھی گواد پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں
لیکن وہاں کی عوام پانی سمیت دیگر ضروریات زندگی سے یکسر محروم ہیں جو حکمرانوں کی نام نہاد ترقی کے دعووں کی برعکس ہے اس سانحہ میں دہائیوں گزرنے کے باوجود بھی آج تک گوادر کے عوام پانی کی نعمت اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ کمسن یاسمین بلوچ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی شہداجیونی کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا اور حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے گی راہشون سردار عطااللہ خان مینگل کے نظریہ کو آج وقت و حالات نے ثابت کر دیا کہ مکران کے باشعور عوام میگا منصوبوں کے باوجودآج بھی پسماندہ ہیں
بی این پی ترقی مخالف نہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاریخی بحر بلوچ جس پر دنیا کی نظریںمذکور ہیں وہاں کی عوام پینے پانی کے لئے ترس رہے ہیںبیان میں کہا گیا کہ بی این پی شہداکے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے اور شہداکی عظیم قربانیاں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
Leave a Reply