|

وقتِ اشاعت :   February 25 – 2026

کوئٹہ: ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ ایف آئی اے بلوچستان زون کوئٹہ بہاول اوستو نے کہا ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) بلوچستان زون نے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مشتبہ منظم بھکاری نیٹ ورک کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ 24 فروری 2026 کو تین مسافر، غلام شبیر، عبد الرحمن اور گل محمد، عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانگی کے سلسلے میں ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے امیگریشن کلیئرنس کے لیے پیش ہوئے۔ دورانِ جانچ معلوم ہوا کہ دو مسافر جسمانی طور پر معذور تھے اور وہیل چیئر استعمال کر رہے تھے جبکہ تیسرا شخص ان کی معاونت کر رہا تھا۔ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران مسافروں کے حالات و حرکات مشکوک پائے گئے،

جس سے شبہ ہوا کہ یہ افراد بیرونِ ملک منظم بھکاری نیٹ ورک کے تحت خیرات اکٹھا کرنے کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔ مزید تفتیش پر مسافروں نے انکشاف کیا کہ ایک سہولت کار آدم خان نے انہیں ایئرپورٹ پہنچانے میں مدد فراہم کی۔انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ سہولت کار کو ایئرپورٹ پارکنگ ایریا سے گرفتار کر لیا۔ ملزم آدم خان نے ابتدائی تفتیش کے دوران خود کو رکشہ ڈرائیور ظاہر کیا اور بتایا کہ اس نے مسافروں کو ایئرپورٹ پہنچایا۔

اس کے قبضے سے 60,000 روپے نقد رقم برآمد ہوئی، جو بظاہر مسافروں کی جانب سے ایزی پیسہ کے ذریعے فراہم کی گئی تھی۔

مذکورہ شواہد اور مشتبہ صورتحال کے پیش نظر تینوں مسافروں اور سہولت کار کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا اور انہیں قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کوئٹہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بہاول اوستو نے کہا کہ ایف آئی اے منظم بھکاری مافیا، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر نہ صرف ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کا استحصال بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس گروہ کے تانے بانے پنجاب میں موجود پیشہ ور ایجنٹ مافیا سے ملتے ہیں اور ایف آئی اے اس قسم کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *