کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرانے کا ٹینڈر ہوچکا ہے، عمارت گرانے کے بعد نئی عمارت کی تعمیر شروع ہوگی،
جب تک عمارت بنتی ہے تب تک ہم دوسری عمارت میں اجلاس کریں گے، یہ بات انہوں نے بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں ارکان کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھائے گئے نکتے کے جواب میں کہی۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی کی عمارت نہیں گرنی چاہیے مگر اب اسمبلی کی موجودہ عمارت میں مزید گنجائش نہیں رہی، ہمیں اور کہیں مناسب زمین نہیں مل رہی، اس لئے اس عمارت کو گرارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں وزیراعلیٰ چمبر ضرورت کے مطابق نہیں، وومن کاکس کے لئے جگہ تک نہیں،
انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں اسمبلیوں کی عمارتیں بن چکی ہیں، بلوچتان اسمبلی کی عمارت کے لئے وفا ق فنڈز دئے رہا ہے، ارکان تجاویز دیں ان کی تجاویز سے نئی عمارت کا ڈیزائن بنائیں گے۔قبل ازیں اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد ریکی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو تاحال دفاتر الاٹ نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امور کی انجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں، نیشنل پارٹی کے رکن رحمت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی نئی عمارت تعمیر کرانے سے پہلے موجودہ عمارت کے حوالے سے جو رپورٹ تیار ہوئی ہے وہ ایوان میں لائی جائے،
انہوں نے کہاکہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کیلئے دفاتر نہیں جبکہ کمیٹیوں کے باقاعدگی سے اجلاس بھی ہوتے ہیں لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے آتے ہیں مگر کمیٹی کے چیئرمینوں کے پاس بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ تک نہیں جس کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں،
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کہاکہ اسمبلی کے نئے بلاک میں کمیٹیوں کیلئے اب تک دفاتر الاٹ نہیں کئے ہیں کیوں کہ اسمبلی کی عمارت نئی بننے کی صورت میں ایڈمن بلاک بھی گرایا جائے گا ایسے میں اسمبلی کے اسٹاف کی تعداد جو چھ سو سے زیادہ ہے
نئے بلاک میں منتقل کئے جانے کی تجویز بھی ہے،جہاں پر اسمبلی کے عملہ کو عارضی طور پر منتقل کریں گے، دوسری صورت میں ایڈمن بلاک کو ایسے ہی رہنے دیا جائے گا۔ جس پر نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ نے کہاکہ نئی عمارت کافی عرصے سے تیار ہے جو بناکر چھوڑ دی گئی ہے وہاں چیئرمینوں کو دفاتر الاٹ کئے جائیں۔ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہاکہ نیو بلاک اسٹیڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو الاٹ کیا جائے اگر اسمبلی کی نئی عمارت بنائی جاتی ہے تو اس کوایسے ڈیزائن کیا جائے کہ ایڈمن بلاک متاثر نہ ہو انہوں نے تجویز دی کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کو ایم پی اے ہاسٹل کی پرانی عمارت میں منتقل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ اپوزیشن چیمبر کی صورتحال یہ ہے کہ بمشکل چند لوگوں کے بیٹھے کی گنجائش ہے اگروہاں پر کچھ زیادہ مہمان آجائیں تو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Leave a Reply