|

وقتِ اشاعت :   June 17 – 2016

کوئٹہ : بلوچ رابطہ اتفاق تحریک (برات)کے سر براہ سابق وفاقی وزیرمواصلات و تعمیرات پرنس محی الدین بلوچ نے کہا ہے کہ ہم نے کوشش کی کہ بلوچ قوم کی حیثیت کو فعال بنا کر صوبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ملک میں 1973 کے آئین سے پہلے بھی آئین بنائے گئے تھے مگر 1973 کے آئین پر پوری قومی سیاسی قیادت نے دستخط کیے تھے مگر 1973 کے آئین کے خالق نے تیسرئے ہی روز آئین میں ترمیم کی جس پر اس وقت کے اپوزیشن رہنما مولانا مفتی محمود نے احتجاج کیا تو انہیں ایوان سے جس طرح باہر نکالا گیا وہ آئین کے روح کے منافی تھاجب آئین اپنا کام نہیں کررہا ہو تو صورتحال زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے ،1977 میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی اور جب ملک میں مارشل لگا تھا تو اس وقت عدلیہ نے اس کو درست قرار دیا تھا، اس کے بعد جب جنرل پرویز مشرف نے ملک کا اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تو اس کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں تھا،کیونکہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے اختیارات استعمال کر تے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ جنرل ضیاء4 بٹ کو تعینات کیا تو پرویز مشرف نے اس فیصلے کو برداشت کر نے کی بجائے اسے ذاتی انا کا مسئلہ بنا کر اقتدار پر براجمان ہو کر ذاتی مفادات کو تر جیح دی اور اور ان کے فیصلوں سے ملک اور بلوچستان کے حالات خراب ہوئے مگر مشرف کے ٹیک اوور کو بھی درست قرار دیا گیا، ایسے دیکھنا ہوگا کہ ہمارا آئین بحرانوں سے ڈیل کیوں نہیں کرپارہا ہے، اس وقت عالمی قوتوں کی نگاہیں بلوچستان پر لگی ہوئی ہیں ان کی نظریں صوبے کے وسائل پر بھی لگی ہوئی ہیں، سیندک کا آدھا حصہ وفاق اور آدھا چائنا لے گیا بلوچستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا اس طرح تو نو آبادیاتی دور میں بھی نہیں ہوا، اس وقت جو صورتحال ہے اس میں بیرونی طا قتیں بلوچستان آنے کے لئے تیار کھڑی نظر آرہی ہیں ہمارجنوب مشرق کاا ایک مسلمان ہمسایہ ملک ہم پر اپنے ملک میں ہونے واقعات کا الزام لگارہا ہے ہم پر الزام ہے کہ ہم ان کے ملک میں دراندازی کر رہے ہیں افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا،صورتحال انتہائی گمھبیر ہے ایسے میں میاں محمد نواز شریف، ا?صف علی زرداری اور عمران خان لندن میں اکٹھے ہوئے انہیں کہا گیا ہیکہ اپنے ملک کو ا?رڈر میں کریں اور اسے مستحکم بنائیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں بلوچستان پر مرکوز ہیں اور مغرب چاہتا ہے کہ اس خطے میں بیٹھ کر سیاست کرئے انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر مجھے اور برات کوموقع دیا گیا تو میں حالات کو بہتر بنا نے میں اپنا مکمل کردار ادا کرونگا، اس وقت پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف معاملات کو سنجیدگی کیساتھ حل کر نے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اس لئے انہیں جنرل ضیاء4 الحق کی طرح فیصلہ کرنا ہوگاایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو ملک کے دوسرئے حصوں اور بلوچستان میں فرق تھا بلوچستان کی اپنی آزاد حثیت تھی مگر بلوچستان کیساتھ ہمیشہ ظلم اور زیادتی ہوئی اور خاص طور پرگزشتہ 23 اور پھر 16سال سے جو معاملات چلے آرہے ہیں، امن کی بحالی کو یقینی بنا نے کیلئے قصور وار کو سزا اور جرمانہ ہونا چاہئے لو گوں کو اعتماد میں لے کر مسائل کا حل نکالا جائے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچ رابطہ عوامی تحریک (برات) اس وقت پنجاب، سندھ ، کراچی اور گلف میں بھی تیزی سے فعال ہو رہی ہے ہماری کوشش ہے کہ بلوچ قوم کی سوچ کو یکجہتی کیساتھ لے کر آ بڑھا جائے بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل بھی یہی ہے کہ لو گوں کے مسائل کو حل کر کے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تاکہ بلوچستان ہاتھسے نکل نہ جائے میں نو سال تک وزیر رہا اور یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مارشل لاء4 کے دور میں خوش رہے اور انہیں انصاف ملتا رہا ہے ترقیاتی کام ہوئے جبکہ جمہوری دور میں انہیں نظر انداز کیا اور ان سے نا انصافی کی جاتی رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جمہوریت کے خلاف ہوں اور نہ ہی جمہوریت بری چیز ہے کیونکہ اسلام میں بھی جمہوریت کی جھلک دکھائی دیتی ہے تمام خلفا ئے راشدین جمہوری انداز میں آئے جبکہ ہمارے ملک میں جو پارلیمانی نظام چل رہا ہے وہ غیر جمہوری بلکہ واثت پر مبنی ہے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کئی ایک انتخابات کو دھاندلی پر مبنی قرار دئے چکے ہیں۔