|

وقتِ اشاعت :   June 17 – 2016

اسلام آباد : پختونخوا ملی عوامی پارٹی ( میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پختونخوا میپ کے رہنماؤں پر افغان شہریوں کو شناختی کارڈ بنوا کر دینے کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے،ہم نے پاکستان کیلئے قربانیاں دیں اور اج ہمیں کسی کا ایجنڈ قرار دیا جا رہاہے، ایک ایسا بھی شناختی کارڈ ثابت کر دیا جائے جو ہم نے افغان شہری کو لے کر دیا ہے توجو چور کی سزا وہ ہماری سزا، پختونخوا میپ افغانیوں کو پاستانی شناختی کارڈز کے اجراء کیخلاف ہے ،ہمارے ایک لاکھ سے زائد شناختی کارڈ بلاک کر کے ہم سے پاکستان کی شناخت چھینی گئی ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ تب تک نہیں جیت سکتا جب تک دہشت گردی کے خلاف پالیسیاں پارلیمنٹ میں نہیں بنیں گی، کرپشن ختم کرنے کیلئے تمام جماعتیں حلف دیں کہ وہ کرپشن نہیں ہونے دیں گی، ملک ٹوٹا ابھی تک انکوائری نہیں کی گئی کہ کن وجوہات کے باعث ملک ٹوٹا، پارلیمنٹ قانون بنا ئے کہ جو جاگیردار اپنی بچیوں کو اس کا حصہ نہیں دیتا اسے جیل میں ڈال دیا جائے، پنجابی، سندھی، بلوچستان اور پختون کو پرائمری تک تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے تو ہمارا لٹریسی ریٹ 100فیصد ہو جائے گا، پارلیمنٹ پر جیسے حملہ کیا گیا، اگر اسی طرح منتخب نمائندوں کے فورم پر حملہ کیا جائے گا تو پاکستان نہیں چلے گا، پارلیمنٹ جب طاقت کا سرچشمہ ہو گا۔وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اعلیٰ افسران پختونخوا میپ پر افغان شہریوں کو شناختی کارڈ دینے کے حوالے سے پریشر ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں، انگریز دور میں ہمیں بڑی بڑی پیشکشیں کیں مگر ہم نے لینے سے انکار کر دیا اور آج ہم پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم کسی کے ایجنٹ ہیں، ایک ایسا بھی شناختی کارڈ ثابت کر دیا جائے جو ہم نے افغان شہری کو لے کر دیا ہے تو جو چور کی سزا وہ ہماری سزا، ہم نہیں چاہتے کہ افغان شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں، آج ایک لاکھ سے زیادہ ہمارے شناختی کارڈ بلاک ہیں، ہم سے پاکستان کی شناخت چھینی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی کے قریب طالبان سربراہ ملا منصور کو مارا گیا مگر میں نہیں مانتا، طالبان لیڈر پاگل تھا کہ وہ ایک ڈرائیور کے ساتھ سفر کرے ،امریکی ڈروان سے گاڑی جل گئی مگر ایک کاغذ کا پاسپورٹ نہیں جلا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ تب تک نہیں جیت سکتا جب تک دہشت گردی کے خلاف پالیسیاں اس ایوان سے نہیں بنیں گی، ایک ڈپٹی کمشنر و دیگر کو خفیہ معلومات دے سکتے ہیں، اس ایوان کو کہیں ہم لوگ اتنے ہی فضول ہیں، کرپشن ختم کرنے کا واحد راستہ ہے کہ تمام جماعتیں حلف دیں کہ وہ کرپشن نہیں ہونے دیں گی، ملک ٹوٹا ابھی تک انکوائری نہیں کی گئی کہ کن وجوہات کے باعث ملک ٹوٹا، جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو آسان میں اڑانے میں بھی ہم لوگ ہی ملوث تھے، سانحہ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات نہیں ہوئی،12مئی کا واقعہ، بے نظیر بھٹو کی کراچی آمد پر کوئی انکوائری نہیں کی گئی، سوات کا دریا چینی حکومت کے حوالے کر دیا جائے جس سے 50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، آدھی بجلی چین کو دے دی جائے اور آدھی پاکستان کو دی جائے، ملک سے اندھیرے ختم ہو جائیں گے، سندھ اور بلوچستان کے بچوں کو آئینی گارنٹی دینی ہو گی کہ اس زمین کا پہلا حق ان کے بچوں کا ہی ہو گا، بتایا جائے کہ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے محسود قبائل کے لوگ اور ان کے گھر کیا دہشت گردوں کے مراکز تھے جنہیں فاٹا سے ختم کر دیا گیا، فاٹا پیرا ملٹری فورسز کو ایک لاکھ جوان دیتا ہے، پارلیمنٹ قانون بنا دیں کہ جو جاگیردار اپنی بچیوں کو اس کا حصہ نہیں دیتا اسے جیل میں ڈال دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی، سندھی، بلوچستان اور پختون کو پرائمری تک تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے تو ہمارا لٹریسی ریٹ 100فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف جھنڈا اٹھانے سے پاکستان زندہ باد نہیں ہو گا، جب تک پشتون، سندھی، بلوچستان زندہ باد نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پر جیسے حملہ کیا گیا، اگر اسی طرح منتخب نمائندوں کے فورم پر حملہ کیا جائے گا تو پاکستان نہیں چلے گا، پارلیمنٹ جب طاقت کا سرچشمہ ہو گا، خارجہ پالیسی سمیت دیگر پالیسیاں یہاں سے بنیں گی تو ملک ترقی کی طرف جائے گا، جو پالیسیاں اس ایوان سے بنیں گی تو وہ پاکستان کی پالیسیاں ہوں گی، جو بیورو کریٹ بناتے ہیں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کے نقصانات کے ہم ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طور خم بارڈر پر جو کچھ ہوا اس حوالے سے ٹھنڈے دماغ سے اقدامات اور فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں مل کرقرار داد پاس کریں کہ سینیٹ کو وہ تمام اختیارات دیئے جائیں جو ان کا حق ہے۔