|

وقتِ اشاعت :   February 28 – 2026

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سائنس کالج، ہاکی چوک تا سریاب ریلوے کراسنگ سڑک اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) زاہد سلیم نے عدالت کو بتایا کہ اکرم ہسپتال تا امداد چوک اور امداد چوک تا ہاکی چوک مرکزی شاہراہ (MCW) پر اسفالٹ بیس کورس، سروس روڈز، کراس ڈرینیج، یوٹرنز اور دیگر ساختی کام تیزی سے جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی اسفالٹ سڑک کی تکمیل عیدالفطر سے قبل متوقع ہے،

جبکہ سروس روڈ، اسفالٹ وئیرنگ کورس اور دیگر ذیلی کام 15 تا 30 اپریل 2026 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ طوفانی پانی کی نکاسی کا منصوبہ 98 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

15,905 میٹر میں سے 15,675 میٹر کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ صرف 230 میٹر باقی ہے۔

اسی طرح اسفالٹک بیس کورس بھی زیادہ تر حصے میں مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم بعض مقامات پر گیس لائنوں کی منتقلی میں تاخیر رکاوٹ بن رہی ہے۔عدالت کے استفسار پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے حکام مخدوم الرحمٰن (منیجر لٹیگیشن) اور انجینئر سمیر علی نے یقین دہانی کرائی کہ گیس منتقلی کا کام فوری مکمل کیا جائے گا۔ عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایس جی سی ایل حکام کے ہمراہ فوری سائٹ وزٹ کر کے کھدائی اور دیگر تکنیکی امور جلد نمٹائیں تاکہ مزید تاخیر نہ ہو۔

مزید برآں، عدالت کو بتایا گیا کہ کوئٹہ کے اطراف اسٹون کرشنگ اور اسفالٹ پلانٹس پر عدالتی پابندیوں کے باعث مشکلات پیش آئیں، تاہم منصوبے کے لیے کیچ/ہنہ روڈ پر اسفالٹ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ بعض شکایات کے باعث ایس ایچ او تھانہ کینٹ کی جانب سے رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی، جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو ہدایت کی کہ منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ رینج کو بھی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔

عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) کو منصوبے کی نگرانی جاری رکھنے اور اگلی سماعت پر پیش رفت رپورٹ بمعہ تصویری ثبوت جمع کرانے کا حکم دیا۔دریں اثناء، این-25 کراچی تا چمن شاہراہ کی دو رویہ تعمیر سے متعلق بھی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ کام جاری ہے اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ تاہم گاہی خان چوک اور سریاب کسٹم کے اوورہیڈ برجز اس منصوبے کا حصہ نہیں بلکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے علیحدہ منصوبے ہیں، جن کے متعلق بھی اگلی سماعت پر رپورٹ طلب کر لی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مارچ 2025 تک ملتوی کرتے ہوئے حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *