|

وقتِ اشاعت :   February 28 – 2026

کوئٹہ:  سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے کہاہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 پردوبارہ انتخابات کرانے کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سات سال بعد اسٹے کی درخواست واپس لی گئی، انتخابات میںہار ے شخص کو دیا گیا اسٹے سات سال تک برقرار رکھا گیا ،

یہ بات انہوں نے جمعہ کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کے باہر سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے کہاکہ 2018ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265ء پر دھاندلی کی خلاف ان کی درخواست پر الیکشن ٹربیونل نے 14 ستمبر 2019 کو حلقہ سے منتخب ہونے والے رکن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا،

الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف قاسم سوری کی درخواست پر سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 7 اکتوبر 2019 ء کو الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کیا تھا جس پر آج سپریم کورٹ میں ہونیوالی سماعت کے دوران تین رکنی بینچ نے سات سال گزرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا،افسوس یہ ہے کہ ہمارا وقت اور توانائی ضائع کی گئی، ایک شخص کو دیا گیا اسٹے سات سال تک برقرار رکھا گیا

جو 2018ء کے انتخابات میں ہار چکا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست نہیں چاہتی کہ بلوچستان کی حقیقی نمائندگی ہو صوبے کے لوگ پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، آج صوبے میں جو شورش ہے اس کی ایک وجہ ناانصافیاں بھی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ ناراض ہیں۔

سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ نے کہاکہ قاسم سوری نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت عظمیٰ نے ان کو اسٹے دیا اوریہ اسٹے سات سال تک چلتا رہا،

الیکشن ختم ہوگیا اسمبلی ختم ہوگی 2024ء کو ملک میں دوبارہ انتخابات ہوئے ان انتخابات کو بھی دو سال گزرگئے ہیں 2019ء کے بعد 2026 کو قاسم سوری کی اپیل کا فیصلہ ہورہا ہے،

انہوں نے کہاکہ سات سال کے بعد قاسم سوری کے وکیل نے عدالت کے سامنے استدعا کی کہ یہ اپیل بے اثر ہوگی اس کا کوئی فائدہ نہیں وہ اسمبلی ختم ہوگئی ہے لہذا میں یہ اپیل واپس لیتا ہوں، انہوں نے کہاکہ سات سال تک کیس کو التواء میں رکھنا اس حلقہ کے ووٹرز اور نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کیساتھ زیادتی ہے، انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل طے کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *