|

وقتِ اشاعت :   June 18 – 2016

کوئٹہ : بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ فورسز آرمی بلوچستان میں عام نہتے افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے،چھاؤنیاں اور کیمپ عام آبادی کے اندر بنائے گئے ہیں اور دوسری طرف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے رشتہ داروں کو اُٹھا کر غائب کیا جارہا ہے۔تاکہ وہ سیاسی رہنماؤں کو سرنڈر ہونے پر مجبور کریں۔ گزشتہ رات پنجگور میں فورسز نے بی این ایم کے چیئرمین واجہ خلیل بلوچ کے چھوٹے بھائی سیف بلوچ کو گھر سے اُٹھا کر غائب کیا جسکا مقصد سیاسی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنا ہے،فورسز کے قافلوں میں بھی عام مسافر گاڑیوں اور عام لوگوں کو زبردستی شامل کیا جا تاہے۔ غرض ہر جگہ و مقام اور کارروائی میں معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جو تمام جنگی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عام آبادیوں میں تعلیمی اداروں پر قبضہ کرکے انکو فورسز کے کیمپ میں تبدیل کےئے گئے ، جس سے ان کی اندھادھند گولہ باری سے کئی معصوم شہری شہید یا زخمی ہوچکے ہیں۔ ’’مارو اور پھینکو‘‘ اور ’’ جعلی مقابلوں‘‘ میں بلوچوں کو قتل کرکے بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے اور بلوچ قوم کو خوف میں مبتلا کرنے میں ناکامی کے بعد ’’سیاسی کارکنوں کے رشتہ داروں ‘‘ کو اُٹھا کر غائب کرنے کا نیا حربہ شروع کیا گیا ہے۔ بی این ایم ان کی تفصیل میڈیااور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو مہیا کر چکی ہے۔ وہ خاموش ضرور ہیں مگر ان واقعات کے گواہ بھی ہیں ،ریاست کے مظالم اور قتل بلوچستان میں نسل کشی کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ ہزاروں بلوچ اُٹھا کر غائب اور شہید کئے گئے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں کے بارے میں مغرب کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہئے۔ ان جرائم پر خاموشی مہذب دنیا اور جمہوری اصولوں کی منافی ہے۔خطے کی امن کیلئے امریکہ یورپی اتحاد کے اربوں ڈالر ہڑپ کرنے کے باوجود پاکستان ملا منصور اختر، اسامہ بن لادن، ملا عمرسمیت تمام مذہبی شدت پسندوں کا محفوظ پناہ گاہ رہا۔ اب بھی عالمی مطلوب حافظ سعید اور حقانی پاکستان میں آزادی سے اپنی سرگرمیاں سر انجام دے رہی ہیں ۔ جبکہ سیکولر بلوچ قوم کو ختم کرنے کیلئے بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی کو پروان چڑھاکر انہیں بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جا رہاہے۔ اور بلوچ سیاسی کارکنوں کو ختم کرنے کیلئے ہر گزرتے دن مختلف سفاکانہ حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ سیاسی قائدین کے رشتہ داروں کو غائب کرنا انہی غیر انسانی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ان نہتے بلوچوں کو بھی دوسروں کو طرح دوران حراست قتل کیا جائیگا۔ پانچ جون کو فورسز نے جھاؤ کے مختلف علاقوں سے سات نہتے بلوچ فرزندوں کو اغوا کیا، جو تاحال لا پتہ ہیں ۔ جھاؤ حاجی شہر سے جمشید ولد بہرام، جھاؤ شاہی ترپ سے داؤد، جھاؤ واجہ باغ سے ناصر ولد ماما شاہ، نواز ولد قمیسہ، جھاؤ نوندڑہ سے وحید ولد محمد اور جھاؤ کوٹو سے مینگل ولد امام بخش اور محمد ولد عبداللہ کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا۔جبکہ 16 تاریخ کو فورسز نے کیچ کے علاقے نزر آباد و گرد نواع میں آپریشن کر کے کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا ،فورسز کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے کچھ افراد کے نام یوں ہیں، سرور بلوچ، منور، استاد حبیب، محمد حسین،خلیل احمد، جہانزیب اور نادل بلوچ۔فورسز نے علاقے میں تمام گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔