|

وقتِ اشاعت :   1 day پہلے

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیش کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایک نہایت خطرناک اور تباہ کن جنگی صورتحال میں داخل ہو چکی ہے

جس کے اثرات صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی قیمت لاکھوں انسانوں کی جانوں، معاشی تباہی، غربت، بھوک، بے روزگاری اور جبری نقل مکانی کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ سرمایہ دارانہ عالمی نظام کی سربراہ سامراجی قوت امریکہ اپنے جنگی اتحادی اسرائیل اور دیگر تابع ریاستوں کے ساتھ مل کر اس جنگ کو مشرقِ وسطیٰ تک پھیلا چکی ہے،

ایک ایسا خطہ جہاں کے عوام پہلے ہی معاشی بدحالی، ریاستی جبر، استحصال اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں ایک بار پھر انہی محروم اور پسے ہوئے عوام کو اس تباہ کن جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگی جنونیت، خصوصاً ایران پر ہونے والے میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیان میں کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتا ہے، بظاہر ایک اخلاقی مؤقف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کے مالک ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن واضح طور پر مؤقف رکھتی ہے کہ اگر دنیا کو ایٹمی تباہی کے خطرے سے بچانا ہے تو صرف ایران ہی نہیں بلکہ امریکہ سمیت تمام جوہری طاقتوں کو اپنے مہلک ہتھیار ختم کرنے ہوں گے۔

موجودہ عالمی نظام میں امریکہ ایک ایسی قوت کے طور پر ابھرا ہے جس کی سامراجی پالیسیاں دنیا بھر میں جنگوں، قبضوں اور تباہی کا سبب بنی ہیں، جبکہ اس کا اتحادی اسرائیل ایک ایسی ریاستی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جس کی بنیاد مسلسل عسکری جارحیت، توسیع پسندی اور جنگی جنون پر قائم ہے۔ ایران کی موجودہ حکمران ملا اشرافیہ بھی کسی طور مظلوم یا دفاعی قوت نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایران کے عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریکوں میں متحرک رہے ہیں اور ریاستی جبر، معاشی بحران اور سیاسی گھٹن کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

ایران کے اندر عوامی مزاحمت کی یہ لہریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عوام خود اپنے جابر حکمرانوں کے احتساب کے لیے میدان میں موجود تھے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی براہ راست عسکری مداخلت نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس بات کا خطرہ پیدا کر دیا ہے کہ یہی بیرونی حملے اس رجیم کو مزید جبر اور“دفاع”کے نام پر اقتدار کو طول دینے کا جواز فراہم کریں گے۔ اس طرح عالمی حکمران اشرافیہ کے باہمی تصادم میں ایک بار پھر عوام ہی قربانی کا ایندھن بن رہے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس موقع پر اقوام متحدہ جیسے اداروں سے کسی قسم کی اپیل نہیں کرتی کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یہ ادارے بڑی سامراجی طاقتوں کے مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔

اس کے برعکس بی ایس او دنیا بھر کے عوام، خصوصاً امریکہ، یورپ، اسرائیل اور ایران کے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں حکمران طبقات کے خلاف آواز بلند کریں، سڑکوں پر نکلیں اور اپنی ریاستی مشینریوں پر ایسا دباؤ ڈالیں جو جنگی جنون کو روکنے پر مجبور کر دے۔ جنگیں حکمران اشرافیہ کے مفادات کے لیے لڑی جاتی ہیں جبکہ ان کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتے ہیں۔

اس لیے اس جنگ کو روکنے کا واحد راستہ عالمی عوامی دباؤ اور مزاحمت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی یہ جنگ جنوبی ایشیا تک پھیلنے کے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان پہلے سے محکوم اور پسے ہوئے طبقات اور قومیتوں کو اٹھانا پڑے گا۔

بلوچ قوم کی ایک بڑی آبادی ایران میں آباد ہے جو طویل عرصے سے ریاستی جبر اور سیاسی محرومی کا شکار ہے، جبکہ پاکستان میں آباد بلوچ عوام بھی اسی نوعیت کی مشکلات اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنگی صورتحال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، معاشی تباہی، بے روزگاری اور انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس سے نمٹنے کے لیے نہ ایران اور نہ ہی پاکستان کی ریاستوں کے پاس کوئی سنجیدہ منصوبہ موجود ہے۔

بی ایس او بلوچ قوم سمیت خطے کے دیگر محکوم عوام اور طبقات سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس خطرناک صورتحال میں فوری بنیادوں پر اتحاد قائم کریں اور ان جنگی پالیسیوں کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی راہ اپنائیں جو پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم اور محکوم عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے منظم ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی پیدا کریں اور اس جنگی جنون کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کریں تاکہ اس کے تباہ کن اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور عوام کو اس عالمی تباہی کا ایندھن بننے سے بچایا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *