تربت : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پیپلز گرین بس سروس کیچ کے عوام کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک اہم تحفہ ہے جس کا مقصد عوام کو معیاری، محفوظ اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دے رہی ہے اور اسی وژن کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام دوست منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز گرین بس سروس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا
اس موقع پر صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، میر عاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند بھی موجود تھے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ موجودہ حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جن کے ذریعے نوجوانوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا طویل المدتی نتائج کا حامل ہے اور اس کے مثبت اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں بند اسکولوں کو فعال بنانے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے اور اس کے واضح نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 3200 بند اسکول دوبارہ فعال ہو چکے ہیں جبکہ اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تاکہ تعلیمی نظام کو مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ مکران ڈویڑن میں اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور گوادر میں ایک بھی اسکول بند نہیں ہے جو کہ حکومت کی تعلیمی اصلاحات کا واضح ثبوت ہے
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر بلوچستان کی پائیدار ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں، دانشوروں اور باشعور طبقات کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ لاحاصل اور طویل جنگوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا
بلکہ اس کا نقصان معاشرے اور آنے والی نسلوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، تعلیم اور امن ہی وہ راستہ ہے جس سے بلوچستان اور اس کے نوجوانوں کا روشن مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے خطے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پڑوسی ملک میں کشیدہ صورتحال کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر رہی ہے انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ہونے والی ملاقات میں بھی اس حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی، سماجی اور علاقائی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن، ترقی، تعلیم اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورہ تربت کے دوران نئے ضلع تمپ کے قیام کا نوٹیفکیشن باقاعدہ طور پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے حوالے کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ضلع تمپ کا قیام علاقے میں انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو حکومتی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اور وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مقامی سطح پر گورننس کو بہتر بنانے کے لیے نئے اضلاع کا قیام ناگزیر ہے تاکہ عوامی مسائل کا بروقت اور مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کرے گی
اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تقریب میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو، میر اصغر رند بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے جبکہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی اس موقع پر نوٹیفکیشن وصول کرنے کے بعد صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع تمپ کا قیام علاقے کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف انتظامی امور میں بہتری آئے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا اور عوام کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں نمایاں آسانی حاصل ہوگی انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا یہ اقدام علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جس سے تمپ اور اس کے گرد و نواح کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
کوئٹہ کے بعد تربت میں بھی گرین پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سرکٹ ہاؤس تربت میں گرین پیپلز بس چلا کر تربت شہر میں جدید عوامی ٹرانسپورٹ سروس کا افتتاح کر دیا افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند، صوبائی وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو سمیت دیگر منتخب نمائندگان اور حکام بھی موجود تھے
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تربت میں گرین پیپلز بس سروس کے آغاز کا مقصد عوام کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی میسر آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بس سروس نہ صرف تربت شہر بلکہ پورے ضلع کیچ کے عوام کے لیے ایک اہم سہولت اور خوش آئند اقدام ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تربت میں گرین پیپلز بس سروس کے آغاز میں صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی سمیت ضلع کیچ کے تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں جن کی بدولت یہ اہم منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور گرین پیپلز بس سروس کی طرز پر خواتین کے لیے مخصوص پنک بس سروس بھی بہت جلد شروع کی جائے گی تاکہ خواتین کو محفوظ اور سہل سفری سہولت میسر آ سکے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ کے بعد تربت بلوچستان کا دوسرا شہر ہے جہاں گرین پیپلز بس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے،
جو صوبے میں جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے حکام کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ ان بسوں میں 37 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ کھڑے ہونے والے مسافروں سمیت مجموعی طور پر تقریباً 100 افراد سفر کر سکتے ہیں اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر تربت شہر کے لیے چار بسیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ شہر میں 18 اسٹیشن قائم کیے جا رہے ہیں یہ بسیں تقریباً 19 کلومیٹر طویل روٹ پر چلیں گی اور روزانہ لگ بھگ 4500 مسافروں کو تربت شہر اور مضافاتی علاقوں کے درمیان بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کریں گی
بسوں میں خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ خصوصی افراد کے لیے ویل چیئر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اخراج کے راستے اور آگ بجھانے کے آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔
بسوں کے دروازے خودکار ہائیڈرولک نظام کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ بس کے اندر اور باہر نصب برقی اسکرینوں پر بس نمبر اور روٹ سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں حکام کے مطابق بسوں کے روٹس اور کرایوں کا حتمی تعین تربت شہر اور مضافاتی علاقوں کے درمیان فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں کیا جائے گا۔
ایک تجویز کے مطابق صوبائی حکومت اس بس سروس کے تحت عوام کو ابتدائی طور پر دو سال تک مفت سفری سہولت فراہم کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے عوام کو جدید اور معیاری شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایسے ترقیاتی منصوبے متعارف کراتی رہے گی تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات اور سہل زندگی میسر آ سکے۔
Leave a Reply