|

وقتِ اشاعت :   7 days پہلے

پاکستان نے ایران اور وسط ایشیائی ممالک کیلئے نیا تجارتی راستہ کھول لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے علاقائی تجارت کو وسعت دینے اور روایتی راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پاک ایران سرحد پر واقع گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کردیا گیا ہے، اس پیشرفت سے پاکستان کا افغانستان کے راستے پر انحصار ختم ہوگیا ہے، پاکستان کو اب ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔
یہ ایک مختصر اور موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ متبادل راستہ ہے، اس نئے تجارتی راستے کے ذریعے کراچی سے ازبکستان کے شہر تاشقند کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کردی گئی ، کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہوگئے۔ یہ
تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے، گبد بارڈر ایک ایسے وقت میں فعال ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی کیوں کہ افغانستان کے ساتھ جاری تنازعات کے باعث سرحد کی بار بار بندش کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹرز شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
افغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات تعطل کا شکار ہوچکی تھیں، جس کی وجہ سے حکومت نے ایران کے ذریعے وسطی ایشیاء تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے کیوں کہ پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے۔
اگر ایران پر سے عالمی پابندیاں ختم ہوگئیں تو یہ تجارتی راستہ پاکستان کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوگا کیوں کہ گبد بارڈر ٹرمینل گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہ بارڈر مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔
پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، بشمول ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان، ابھرتی ہوئی معاشی ترجیح ہے، جس کی مالیت 2.41 ارب ڈالر ستمبر 2025 تک پہنچ چکی ہے۔
اہم پیش رفت میں افغانستان کے بجائے ایران کے راستے (گبد بارڈر) نئی تجارتی راہداری کا آغاز شامل ہے جو پاکستان کو کراچی بندرگاہ سے وسط ایشیا تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔
یہ حکمت عملی ٹیکسٹائل، زراعت اور فارماسیوٹیکلز کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔
ستمبر 2025 تک پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مجموعی تجارت 2.41 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کا حصہ 0.5 ارب ڈالر سے کم ہے۔
افغانستان پر انحصار کم کرنے کے لیے، پاکستان نے ایران کے راستے وسط ایشیاء تک ایک نیا زمینی تجارتی راستہ کھول دیا ہے۔
پاکستان،ازبکستان ٹرانزٹ ٹریڈ 3 مارچ 2022 کو پہلی بار کراچی پورٹ سے ٹرانزٹ مال ازبکستان منتقل کیا گیا، جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
پاکستان کے قازقستان کے ساتھ 2024-25 میں برآمدی رسیدیں 250.7 ملین ڈالر رہیں۔
پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، فارماسیوٹیکل، اور پھل برآمد کرتا ہے جبکہ یوریا اور لوہے کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔
افغان صورتحال اور سرحدی بندش نے اکثر تجارتی روابط کو متاثر کیا ہے۔
بہتر سڑکوں اور ریلوے روابط جیسے ٹرانس افغان ریلوے کی ضرورت ہے جبکہ بینکاری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت مالیاتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاکستان ان ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدوں (PTAs) اور جوائنٹ ورکنگ گروپس کے ذریعے تجارت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے مستقبل میں پاکستانی معیشت میں بڑی تبدیلی آئے گی خاص کر وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی سے پاکستان خطے میںایک اہم اور بڑے معاشی ملک کے طور پر ابھرے گا اور اس سے بلوچستان جیسے بڑے اور پسماندہ صوبے میں ترقی کے نئے راستے کھلیں گے اور بلوچستان ملک کا معاشی حب بنے گا۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *