بلوچستان حکومت نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور جدیدیت کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے صوبے میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل اسکول سینسز اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے ۔
ڈیجیٹل اسکول سینسز کے تحت صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کا جامع ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جائے گا جس میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، عمارتوں کی حالت، کمروں کی تعداد، طلباء کے اندراج اور اساتذہ کی تفصیلات سمیت تمام اہم معلومات کو یکجا کیا جائے گا۔
اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی شعبے کی درست منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
اسی طرح جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے انتظامی افسران کی حاضری اور کارکردگی کی آن لائن نگرانی ممکن ہو سکے گی جس سے شفافیت میں اضافہ اور تعلیمی نظام کی مؤثر مانیٹرنگ کو فروغ ملے گا۔ اس نظام کے نفاذ سے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔
یہ جدید ڈیجیٹل سسٹمز پرفارمنس مینجمنٹ سیل کی ٹیم کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جنہوں نے اس وژن کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تقریب کے دوران ایک منفرد اور حوصلہ افزا اقدام کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افتتاح خود کرنے کے بجائے داخلہ مہم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اضلاع کے افسران کو اس اعزاز کا مستحق قرار دیا ،انہوں نے ضلع لسبیلہ کی ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ، جنہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ جنہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی، ان کو اسٹیج پر مدعو کر کے ان کے ہاتھوں ان منصوبوں کا افتتاح کروایا ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت میرٹ، کارکردگی اور شفافیت کے اصولوں پر کاربند ہے اور ایسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے بلکہ پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بلوچستان کے بچوں کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔
بہرحال بلوچستان ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مگر تعلیمی لحاظ سے سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔
یہاں تعلیمی سہولیات کی کمی، اسکولوں کی ناکافی تعداد، اساتذہ کی غیر حاضری اور والدین میں تعلیم کی اہمیت کا شعور نہ ہونا جیسے چیلنجز نے تعلیمی ترقی کو متاثر کر رکھا ہے مگر موجودہ حکومت خاص وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ذاتی دلچسپی اور جہدوجہد سے صوبے میں اسکول دوبارہ فعال ہورہے ہیں، بڑی تعداد میں بچوں کا اسکولوں میں داخلے سے تعلیمی رجحان بڑھ رہا ہے، اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں اور ان کی حاضری یقینی بنائی جارہی ہے جو کہ بڑا انقلابی اقدام ہے ، اس سے تعلیمی اداروں میں بہتری آرہی ہے، تعلیم کے شعبے پر سرمایہ کاری اور اصلاحات پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے۔
ان عوامل سے بلوچستان میں تعلیمی شعبے میں واضح بہتری آئے گی ،غریب والدین کو اپنے بچوں کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہوگا جس سے وہ اپنا ایک شاندار اور بہتر مستقبل بناسکیں گے جبکہ صوبے میں خواندگی کی شرح میں بھی واضح بہتری آئے گی۔
بلوچستان حکومت کا تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور جدیدیت کیلئے اقدامات، صوبیمیں تعلیم کی ترقی کیلئے انقلابی اقدامات!
![]()
وقتِ اشاعت : 21 hours پہلے
Leave a Reply