کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں عوام کیلئے اپنے آبائی علاقوں میں بھی چیک پوسٹوں باباراپنی شناخت ظاہر ہونے کیلئے بے عزت ہو اپنامعمول بن گیاہے قومی شناختی کارڈ بنانامشکل ترین کام بن گیاہے
غیرضروری سوالات،غیرضروری دستاویزات طلب کرنا،گھنٹوں کاکام مہینوں میں کرناآفیسرزکی عادت وروایت بن گئی ہے نادراتمام علاقوں میں شناختی کارڈز بنانے کیلئے عوام کوآسانی وسہولت،سہولیات موبائل ٹیمیں فراہم کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادرمیں ڈائریکٹر جنرل نادرا ساتھ عرض خان سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاجس میں دور دراز علاقوں میں نادرا سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان بھرکیساتھ گوادر کے نواحی علاقوں خصوصا نلینٹ، پشکان،سربندن، پلیری اور سنٹسر کے عوام شناختی کارڈ بنوانے کے لئے طویل سفر طے کر کے آتے ہیں، اور بسا اوقات ایک ہی دن میں کام مکمل نہ ہونے کی صورت میں انہیں دوبارہ دور دراز علاقوں سے آنا پڑتا ہے،
جس سے عوام شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ دوردرازمختلف علاقوں میں نادرا برانچز قائم کی جائیں تاکہ عوام کو ان کے علاقوں کے قریب سہولت میسر آ سکے۔اس موقع پر ڈی جی نادرا ساتھ نے بتایا کہ اس حوالے سے کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور ابتدائی طور پر آٹھ مقامات پر نادرا کے ذیلی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ذیلی یونٹس کے قیام سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو شناختی کارڈ کے حصول اور دیگر نادرا خدمات میں نمایاں آسانی میسر آئے گی۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دور افتادہ علاقوں کے عوام کے لئے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگا۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے پرسنل اسسٹنٹ وسیم صمد بھی موجود تھے۔
Leave a Reply