|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

کوئٹہ:  اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے عملے نے اے جی آفس اور سول ڈیفنس میں مبینہ کرپشن کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئے 2 افسران کو گرفتارکرلیا مزید گرفتاریوں کیلئے گھیرا تنگ رشتہ داروں کو غیر قانونی بھرتیوں اور سرکاری منٹس میں ردوبدل کا انکشاف ہوا ہے

بلوچستان کے حساس مالیاتی دفاتر پر سنگین سوالات اٹھ گئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے بدعنوانی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سول ڈیفنس کے کیشیر محمد کامران اور اے جی آفس کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر عالم زیب زرکون کو گرفتار کر لیا ہے،جبکہ ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کیس نے محض دو افراد تک محدود رہنے کی بجائے ایک وسیع نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لی ہے،جس میں سابق ڈائریکٹر سول ڈیفنس سمیت کم از کم 9دیگر افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کئی اہم شخصیات کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات نہایت تشویشناک بتائی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر قریبی رشتہ داروں اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ملازمتیں فراہم کی گئیں بعد ازاں ایک سال گزرنے کے بعد سرکاری ریکارڈ اور پرانے منٹس میں ردوبدل کر کے ان افراد کو سرکاری دستاویزات میں شامل کیا گیا،جو کہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی کا عندیہ دیتا ہے۔

اداروں کی ساکھ پر سوالات اس کارروائی کے بعد اے جی آفس جیسے اہم مالیاتی ادارے کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری مالیات کے نگران اداروں کے اندر ہی مبینہ بے ضابطگیاں جاری رہیں تو دیگر محکموں میں شفافیت کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ احتساب کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محض آغاز ہے اور اگر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر مالیاتی و انتظامی اداروں میں ماضی میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی اسی انداز میں فرانزک آڈٹ کیا جائے۔

اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں غیر قانونی بھرتیوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی؟ سرکاری منٹس میں ردوبدل کس کے احکامات پر کیا گیا؟ نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا اس نیٹ ورک کے تانے بانے دیگر محکموں تک بھی پھیلے ہوئے ہیں؟ بلوچستان میں احتساب کے عمل کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کیس کو محض چند گرفتاریوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف ایک واضح اور موثر پیغام دیا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *