پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور گزشتہ ہفتے کے آخر میں منعقد نہ ہو سکا جو کہ 2 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں اسلام آباد کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو خصوصی نمائندوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کا اسلام آباد کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا۔
صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ تہران نے بہت کچھ پیش کیا تھا لیکن یہ مراعات مذاکرات کے نئے مرحلے کے آغاز کے لیے کافی نہیں تھیں۔
منسوخی کے باوجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد کے دو الگ الگ دورے کیے۔
ان نشستوں کے دوران پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کی جانب سے ایک نئی تجویز واشنگٹن بھیجی گئی۔
دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی پاکستان کی اس ہائی پروفائل ثالثی کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کررہے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ برقرار ہے تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر دونوں ممالک کے درمیان تعطل برقرار ہے، ایک ایسا بحران جس نے خام تیل، ایندھن اور قدرتی گیس کی عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید برآں ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل ختم کرنے کے امریکی مطالبات کی مزاحمت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ کسی فوری پیشرفت کی توقع شاید حد سے زیادہ خوش فہمی تھی۔
کوئنسی انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم وائنسٹین نے نشاندہی کی کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات 20 ماہ تک جاری رہے تھے۔
موجودہ بحران کے اتنے مختصر وقت میں جامع حل کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
پاکستان ایک مقام اورمومنٹم تو فراہم کرسکتا ہے لیکن وہ کسی بھی فریق کو سمجھوتے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ٹر
مپ کا طریقہ کار پہلے گولی چلانا، مذاکرات کی میز پر بھری ہوئی بندوق رکھنا اور پھر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنا ہے۔
یہ طریقہ شاید وینزویلا جیسے مقامات پر مختصر وقت کے لیے کام کرگیا ہو لیکن ایران جیسے ملک کے ساتھ اس کی کامیابی کا امکان نہیں۔
مذاکرات میں موجودہ تعطل پاکستان کی جانب سے ہفتوں پر محیط بھرپور شٹل ڈپلومیسی کے بعد سامنے آیا ہے۔
محض دو ہفتے قبل اسلام آباد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان طویل دورانیے کے اجلاسوں کی میزبانی کی تھی تاہم وہ بات چیت کسی امن معاہدے کے بغیر ہی ختم ہوگئی، اس کے بعد ثالثی کی ایک اور کوشش کے طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چند روز بعد تہران کا دورہ کیا جس کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کردیا۔
یہ توقعات بہت زیادہ تھیں کہ پاکستان گزشتہ ہفتے کے آخر میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کرے گا تاکہ تنازع کے وسیع تر خاتمے کی بنیاد رکھی جا سکے، تاہم ہفتہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب دونوں جانب سے متضاد اشارے سامنے آنے لگے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔
روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام ملا ہے، صدرپیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور عباس عراقچی سے کہا کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے ان کی نیک خواہشات پہنچائیں۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ امید ہے ایرانی عوام اس مشکل دور سے گزر جائیں گے اور امن قائم ہوگا، ایران اور خطے کے ممالک کے مفادات میں جو ممکن ہوا روس کرے گا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں جو مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔
عباس عراقچی نے ایران کی حمایت پر روس اور صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔
یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
بہرحال پاکستان سمیت عالمی برادری کی یہ کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہو جائے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کیا جائے جو کہ امریکہ اور ایران کے مثبت عمل سے ہی ممکن ہوگا خاص کر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے جو معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بن رہا ہے۔
اگر مذاکرات کے حوالے سیجلد کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو جنگ کاخطرہ برقرار رہے گا جو مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔
Leave a Reply