کوئٹہ : جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی ضلعی مجلسِ عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں انہوں نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس میں صوبائی مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کی روشنی میں نااہل صوبائی حکومت کی مدارس دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک کی تیاریوں سے متعلق مختلف اہم امور پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر 6 مئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال و احتجاجی ریلی اور 10 مئی کو کوئٹہ میں تمام اضلاع کے مشترکہ احتجاجی پروگرام کی تیاریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں مجلسِ عاملہ کے اراکین ضلعی سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد، مولانا عبدالبصیر، حافظ دوست محمد مدنی، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، سید عبدالواحد آغا، حافظ مسعود احمد، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی صالح محمد، مفتی نیک محمد فاروقی، حاجی محمد شاہ لالا، رحیم الدین ایڈوکیٹ، عبدالصمد حقیار، مولانا محمد عارف شمشیر، مفتی محمد ابوبکر، شاہ زاہد مشوانی، مفتی رضا خان، مولوی علی جان، مولوی سعداللہ آغا، مولوی نقیب اللہ ملاخیل، عبدالباری شہزاد، مولوی جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حافظ حبیب الرحمن نے شرکت کی۔
اجلاس میں طے پایا کہ 6 مئی کو کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی اور نمازِ ظہر کے بعد ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی جائے گی 6 اور 10 مئی کے احتجاجی پروگرام کی کامیابی کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
فیصلے کے مطابق ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن رفیق 5 مئی بروز منگل آج شام 4 پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
تمام یونٹس اور تحصیلوں کو ہدایت کی گئی کہ دینی مدارس کے تحفظ کے حوالے سے جاری احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کیلیے بھرپور تیاری کی جائے۔ مدارس کے مہتممین، ناظمین، آئمہ مساجد اور خطباء کو تحریک میں شامل کرنے کے لیے باضابطہ دعوت نامے یونٹ ذمہ داران کے ذریعے پہنچانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، ناظم عمومی حاجی عین اللہ شمس نے کہا کہ حکومت کا مدارس کے حوالے سے متعصبانہ رویہ قابلِ افسوس ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے رجسٹرڈ مدارس کو نوٹسز جاری کرنا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس پر کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا اور مدارس کسی کے حکم پر کھولنے اور بند کرنے کے پابند نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مدارس ہمارے ایمان کا حصہ ہیں اور ان کے تحفظ و دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ حکمران اقتدار کے نشے میں قومی اقدار اور روایات کو فراموش کر چکے ہیں
ان کے غیر اسلامی اقدامات نے قیامِ پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے لاکھوں شہداء کی ارواح کو مضطرب کر دیا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کے اسلامی تشخص اور نظریاتی وجود پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
Leave a Reply