|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز پر حملہ کر دیا۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز کو 2 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ۔
ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی وارننگ نظر انداز کرنے والے امریکی جہاز پر حملہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد امریکی جہاز نے اپنا سفر روک دیا ہے، امریکی جہاز پسپائی اختیار کرنے اور علاقے سے بھاگنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
ایران نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی بغیر اجازت نہیں گزر سکتا، ایران کا کہنا ہے ہدایات نظر انداز کرنے والے جہاز کو فوج فیصلہ کن جواب دے گی۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز پر میزائل حملے میں نقصانات کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی صہیونی ڈسٹرائزر کے داخلے کو روک دیا ہے۔
دوسری جانب سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی جہاز کا ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کی خبر کی تردید کر دی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ جائے۔ ایرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔
2026ء میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، جس کی بنیادی وجہ ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز میں بحری تنازع اور خطے میں فوجی سرگرمیاں ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ برقرار ہے جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہے۔
امریکہ نے خطے میں اپنی فضائی اور بحری قوت میں اضافہ کیا ہے، جسے “آپریشن فریڈم” کے تحت ایران کی جوہری پیشرفت کو روکنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی ناکہ بندی اور قبضے کے واقعات سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی دیکھنے میں آئی مگر مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ عمان میں بھی بالواسطہ مذاکرات ہوئے لیکن تاحال کوئی مستقل معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
یہ کشیدگی 2025-2026 میں ایران کے اندرونی احتجاج اور اس کے بعد جوہری پروگرام پر امریکی تحفظات کے باعث شروع ہوئی۔
دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ جیسی صورتحال ہے جہاں براہ راست جنگ سے بچتے ہوئے فوجی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
اب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز پر حملہ کیا گیا ہے جس کی ایران تصدیق جبکہ امریکہ تردید کررہا ہے ،اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خطرہ موجود ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ روز اشارہ دیا تھا کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
ایران پر دوباہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ملی نئی ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے امریکا کے لیے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کانتیجہ ہے۔
بہرحال موجودہ حالات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم ہیں اور کسی بھی وقت جنگی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس کے نتائج خطے اور عالمی سطح پر معیشت اور امن کیلئے نقصاندہ ثابت ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *