|

وقتِ اشاعت :   July 13 – 2016

پشین :عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ افغانوں کی آڑ میں پشتونوں کے لاکھوں شناختی کارڈ بلاک کرنا زیادتی ہے ، ملک بھر میں تمام غیر ملکیوں سے متعلق یکساں پالیسی اپنائی جائے ، افغان اپنی مرضی سے یہاں نہیں آئے بلکہ خطے میں جاری کشمکش اور مفادات کے حصول کے عوض اپنے ملک سے بے دخل کیا گیا ،پشتون معاشرے کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مذہبی انتہاء پسندی ، رجعت پسندی کی طرف سے لے جایا گیا ، گلی کوچوں میں پشتونوں کے مسائل پر آنسوؤں بہانے والے وفاق اور صوبے میں حکومتی فورم میں آواز اٹھائیں آج صوبہ بھر میں بالخصوص پشتون بیلٹ میں ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاوان ، چوری ، راہزنی کے واقعات تواتر سے جاری ہیں ، صحت ، تعلیم پینے کے پانی ، بجلی گیس کی قلت اور نادرا و پاسپورٹ حکام کے ہاتھوں یہاں کے پشتون اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں اور تاریخ میں پشتونوں کے ساتھ اتنی زیادتیاں نہیں ہوئیں جتنی آج ہورہی ہیں ، سی پیک مغربی روٹ پر عمل درآمد نہ کرانے میں وفاقی حکومت کیساتھ ساتھ صوبائی حکومت اور اس میں شامل جماعتیں برابر کے شریک ہیں پشتونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قوم او رمذہب کے نام پر باریاں لینے والوں کا احتساب کریں ۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ، صوبائی پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی ، ضلع پشین کے صدر عبدالباری کاکڑ ، صوبائی جنرل سیکرٹری نظام الدین کاکڑ ، صوبائی نائب صدر اصغر علی ترین ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید امیر علی آغا ، ملک رحیمک ترین اور عبدالباری غرشین نے پشین بازار باچا خان چوک پر ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے پہلے قائدین کا جہاز میدان کے مقام پر شاندار استقبال اور ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ تک پہنچایا گیا جگہ جگہ خیر مقدمی بینرز ، سرخ جھنڈے آویزاں کئے گئے تھے اس موقع پر متعدد افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔مقررین نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت ، جمہوری اداروں کے استحکام ، چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے لئے فخر افغان باچا خان اور ان کے برپا کردہ تحریک خدائی خدمتگار نے سب سے ذیادہ قربانیاں دیں جانوں کے نذرانے دیئے آمروں کے خلاف میدان عمل میں نکلے لیکن اس کی پاداش پارٹی قیادت کو ملک دشمن ، غدار اور دوسروں کے ایجنٹ کے طعنے ، اذیتیں ، ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل اور تختہ دار و جلاوطنی تک کے عذاب جھیلیں لیکن پارٹی قیادت ایک لمحے کیلئے بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی ۔ مقررین نے کہا کہ جس طرح کشمیری سرحد کے دونوں طرف آباد ہیںیا پنجابی قوم پاکستان اور ہندوستان میںآباد ہیں اسی طرح پشتون افغان بھی ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف آباد ہیں یہ عجیب منطق ہے کہ پنجاب کے عوام ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک رہتے ہیں واہگہ بارڈر پر روزانہ عوام کی جم غفیر خوشیاں اور بھنگڑے ڈالتے ہیں لیکن طورخم اور سپین بولدک کے مقام پر لاشیں آگ خاک و خون کا راج ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام پشتون افغان ہیں لہذا افغانوں کے متعلق برابھلا کہنا ناقابل برداشت ہیں ۔ فخر افغان باچاخان کے جو قدر و منزلت ڈیورنڈ لائن کے اس پار ہے وہ وہاں پر اس سے بڑھ کر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کے مقابلے میں جو ٹولیا ں اور گروہ بنادیئے گئے ان کی اصلیت پشتونو ں پر عیاں ہوگئی ہے گلی کوچوں میں پشتونوں کے دعویدار مرکز اور صوبے کے اسمبلیوں میں خاموش ہے بلکہ میگا کرپشن کی وجہ سے قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر چھپ سادھ لئے ہوئے ہیں ۔ گوادر ، کاشغر اقتصادی راہداری پر وفاقی حکومت اور ان کے اتحادی برابر کے شریک ہیں جبکہ بجلی کی ناروا بندش سے پشتونوں کی واحد ذریعہ معاش زراعت تباہی سے دوچار کیا گیا ۔ مذہبی جنونیت کو پروان چڑھا کر پشتون معاشرے کو مذہبی انتہاء پسندی کو پروان چڑھا کر پشتون معاشرے کو مذہبی انتہاء پسندی رجعت پسندی کی طرف لے جایا گیا جس کے تباہ کن اثرات پشتونوں پر ہی پڑے ۔ �آج لاکھوں پشتون شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے لئے دن بھر لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں پگڑی اور داڑھی کو جواز بناتے ہوئے قومی شاہراہو ں پر ان کے لئے سفر محال کردیا گیا ۔ اغواء برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ ، چوری ، راہزنی کے واقعات سے کاروبار زندگی شدید متاثر ہے اور عوام ایک خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس تمام تر صورتحال میں عوامی نیشنل پارٹی ایک جمہوری ، جمہوریت پسند ، وطن دوست ، قوم پرست جماعت کی حیثیت سے پشتونوں اور دیگر چھوٹی قومیتوں کے غضب شدہ حقوق کی بحالی کے لئے سرگرم عمل ہیں اور نہ اپنے حق پر کسی کو قبضہ کرنے اور نہ ہی دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنے کی پالیسی رکھتی ہے بلکہ باہمی رواداری شائستگی برداشت کی سیاست کی پرچار کو وقت اور حالات کا تقاضا سمجھتی ہے لہذا ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قول و فعل کی بنیا دپر اپنا فیصلہ کریں قوم اور مذہب کے نام پر جتنی بار رائے لیا گیاان پر کہاں تک عمل درآمد کیا جاسکا ۔ آنے والا وقت عوامی نیشنل پارٹی کا ہے انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب وطن سے خوف و ڈر کا سیاہ بادل پھٹ جائیں گے اور خوشحالی و ترقی کا دورودورہ ہوگا جو صرف اور صرف عوامی نیشنل پارٹی کے پروگرام میں مضمر ہے بعد ازاں صوبائی قائدین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا ۔ دریں اثناء صوبائی قائدین آج کلی کربلا میں شمولیتی پروگرام اور ورکرز کنونشن میں شرکت کریں گے ۔