|

وقتِ اشاعت :   July 16 – 2016

کوئٹہ :  شہداء کی جدوجہد اورقربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں شہید حبیب جالب بلوچ سیاسی استاد تھے شہداء کی جدوجہد ہمارے مشعل راہ ہے لاکھوں کی تعداد میں آباد افغان مہاجرین کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے انہیں جاری دستاویزات منسوخ کی جائیں ڈبل سواری کی آڑ میں عوام کی تذلیل بند کی جائے وزیراعظم پیکیج میں سریاب کے علاقوں کو نظر انداز ہونے نہیں دیں گے سریاب کا علاقہ پسماندہ و بدحالی کا شکار ہیں ان خیالات کا اظہار کلی گوہر آباد سریاب تعزیتی جلسہ عام سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبران غلام نبی مری ‘ جاوید بلوچ ‘ جمیلہ بلوچ ‘ میر غلام رسول مینگل ‘ ناصر علی ہزارہ ‘ شمیم بلوچ ‘ اسد سفیر شاہوانی ‘ ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ‘ مہران سری ‘ حاجی ابراہیم پرکانی ‘ ملک خدا بخش پرکانی ‘ میر کاکابزدار ‘ رحمت اللہ پرکانی ‘ حاجی فاروق شاہوانی ‘ نصرت مینگل ‘ میر صابر غلامانی ‘ عزیز شاہوانی ‘ قاسم پرکانی ‘ حاجی حکیم پرکانی ‘منرا پرکانی نے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ملک محی الدین لہڑی نے سر انجام دیئے تلاوت کلام پاک کی سعادت شکاری بلوچ نے حاصل کی اس موقع پر رضا جان شاہی زئی ‘ ڈاکٹر فاروق پرکانی ‘ حنیف لانگو ‘ فیض اللہ لہڑی ‘ نقیب اللہ ‘ علی محمد پرکانی ‘ ناصر شاہین و دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر مقررین نے شہید گل زمین حبیب جالب بلوچ ‘ شہید بابو نوروز ‘ شہید آغا ورنا نوروز احمد زئی ‘ سعید سمیر بلوچ ‘ شہید لیاقت مینگل و شہداء آواران کو زبردستی الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شہداء ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ان کی جدوجہد قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی شہداء نے جان کا نذرانہ دے کر یکجہتی کو دوام بخشا بی این پی کا سہ رنگ بیرک بلوچ اتحاد و یکجہتی اور بلوچستان میں تعصب نسل پرستی کی سیاست سے بالاتر ہو کر بلوچستانیوں کو یکجا کر کے بلوچ معاشرے میں قوموں کو شیروشکر کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ہم اپنے ساحل وسائل پر دسترس حاصل کرنا چاہتے ہیں ملک میں قومی سوال کا حل لازمی ہے قوموں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں بلوچستان کے معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے مظالم سے مسائل نہیں ہوتے ہماری قومی جمہوری جدوجہد بلوچستان کے عوام کے حقوق اور سرزمین کی بقاء و سلامتی ہے کوئٹہ میں کہیں بھی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے سریاب کے علاقے میں چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے جو کسی بھی صورت درست اقدام نہیں ڈبل سواری کی آڑ میں سریاب میں عوام کی تذلیل کی جا رہی ہے سیکورٹی فورسز قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں نہ چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جائے چالیس لاکھ افغان مہاجرین معیشت پر بوجھ ہیں انہی کی وجہ سے مذہبی جنونیت ‘ فرقہ واریت ‘ خود کش حملے سمیت دیگر جرائم کا بول بالا ہے فوری طور پر ساڑھے پانچ لاکھ افغان مہاجرین کو جاری شناختی کارڈز کینسل کیا جائے شناختی کارڈز کے تصدیق کے عمل کو صاف وشفاف طریقے سے آگے بڑھایا جائے بی این پی عوامی طاقت کے ذریعے بلوچستان میں ہونے والے ناانصافیوں ‘ محرومیوں ‘ قومی نابرابری کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے آج پارٹی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے عوامی طاقت اور عوام کی پذیرائی پارٹی کے ساتھ ہے آج مختلف جماعتوں سے مستعفی ہو کر پارٹی میں شامل ہو کر یہ ثابت کروایا ہے کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت ہے پارٹی کا سہ رنگہ بیرک ماؤں بہنوں اور سفید ریش بلوچوں و بلوچستانیوں کے حقوق کی ضامن بیرک ہے پارٹی کے 81سے زائد دوستوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا جائے لیکن آج بھی عوام کی جوق در جوق شمولیت و عوامی پذیرائی کی وجہ سے پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط و منظم ہو چکی ہے مسائل کے حل کیلئے پارٹی کا موقف واضح ہے ترقی کے مخالف نہیں لیکن بلوچوں کو ان کے ساحل وسائل پر اختیار دیا جائے مہاجرین کو اسی لئے آباد کیا جا رہا ہے کہ بلوچ اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل ہوں بی این پی بلوچستان میں ترقی پسند خیالات و افکار و رجحانات کو پروان چڑھا رہی ہے تاکہ بلوچستانی عوام متحد ہو کر اپنے حقوق کے حصول کیلئے جمہوری انداز میں جنگ لڑیں مقررین نے کہا کہ بلوچستان حکومت افغان مہاجرین کے بارے میں موقف کا واضح نہ ہونا باعث تشویش ہے دیگر صوبوں نے پالیسی واضح کر دی ہے تاریخ حکمرانوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی مہاجرین کو کسی صورت اختیار نہیں کہ وہ یہاں آباد ہو کر ملکی شہریت حاصل کرے ۔