اسلام آباد : سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں وزیراعظم کے داماد کیپٹن ر صفدر کے حلقے کیلئے1 ارب 15کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور 935 ملین روپے مانسہرہ ائیر پورٹ کیلئے رکھے گئے ہیں۔کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دامادکے حلقے کیلئے فنڈز زیادہ اور دیگر ممبران قومی اسمبلی کے حلقوں کے لئے کم فنڈز مختص کرنا متعصبانہ رویہ ہے۔ چےئرمین کمیٹی سینیٹرطاہر مشہدی نے کہا ہے کہ یہ فنڈز ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے کیپٹن صفدر کو دئیے گئے ہیں تو دیگر ممبران کو کیوں نہیں دیئے گئے،935 ملین روپے کی لاگت سے تیار ہونے والامانسہرہ ائر پورٹ کیپٹن صفدر کے جہاز کیلئے بنایا جا رہا ہے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات کا اجلاس گزشتہ روز چےئرمین سنیٹر طاہر مشہدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا،جس میں ممبران کمیٹی سنیٹر عثمان کاکڑ،عبدالستار،محسن لعاری، سعید الحسن مندوخیل اور سعود مجید نے شرکت کی ہے۔سیکرٹری پلاننگ نسیم یوسف کھوکھر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہو ئے بتا یا ہے کہ سی پیک 46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے،46 بلین ڈالر مخلتف مراحل میں مختلف منصوبوں میں استعمال ہونگے،ان منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں پر ہوگی،سی پیک کے تحت 38 منصوبے شروع کئے جائنگے،مختلف وزارتوں کے یہ منصوبے ہیں،ان منصوبوں کی منظوری کے حوالے سے ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا۔بلوچستان ا یڈیشنل سیکرٹری برائے منصوبہ بندی نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ بلوچستان کی یہ زمین ریاست کی ضرور ہے مگر جب حکومت لینے جاتی ہے تو قبائل مزاحمت کرتے ہیں اورمغربی روٹ کی تعمیر میں ابھی وقت لگے گا تب تک مشرقی روٹ فنکشنل رہے گا۔انہوں نے بتایا کی سیکورٹی کی مد میں 9000 فوجی مستقل اور 6000 عارضی طور پر تعینات کیے جا رہے ہیں،سی پیک کی کل لاگت کا ایک فیصد سیکورٹی کی مد میں رکھا جا رہا ہے،مشرقی روٹ کو ترجیح کی وجہ اس پر آبادی کا 70 فیصد ہونا ہے۔چےئرمین کمیٹی سینیٹرطاہر مشہدی نے کہاہے کہ عوام سمجھ رہی ہے کہ چین ہمیں سی پیک کے لئے مفت پیسہ دے رہا ہے،سی پیک کا فائدہ چین کو ہی ہوگا،چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے سی پیک کے معاملہ پر ہر چیز واضح ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی صرف موٹروے پر سیر کرسکے گے اوروزیراعظم کے داماد کیپٹن ر صفدر کے حلقے کیلئے ایک ارب پندرہ کروڑ پی ایس ڈی پی بجٹ میں کیوں رکھے گئے، یہ فنڈز ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے کیپٹن صفدر کو دیے گئے ہیں تو دیگر ممبران کو کیوں نہیں دیئے گئے،935ملین روپے کی لاگت سے تیار ہونے والامانسہرہ ائر پورٹ کیپٹن صفدر کے جہاز کیلئے بنایا جا رہا ہے۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ سیکورٹی کے اداروں میں بھی بلوچستان کے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں اورسی پیک کی سیکورٹی کی مد میں بھی فائدہ پنجاب کو ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا مشرقی ریلوے روٹ مغربی روٹ سے 900 کلومیٹر لمبا ہے،پھر بھی حکومتی ترجیح مشرقی روٹ کو دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انگریز 1929 میں کوئٹہ سے ڑوب تک ریلوے لائن بنا سکتا ہے مگر ہم جدید دور میں بھی عوام کیلئے کچھ نہیں کر رہے اورژوب سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے خضدار تک زمین مفت ہے،مگر حکومت کی ترجیح میں مغربی روٹ کہیں نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دراصل سی پیک کوئی گیم چینجر نہیں ہے کیونکہ حکومت نے سی پیک کی بنیاد ہی تعصب پر رکھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کی بھارت چاہ بہار سی وسطی ایشیا تک پہنچ چکا ہے اور ہم طور خم، چمن، کوئٹہ تک بھی روٹ نہیں بنا سکے،وسائل مغربی روٹ پر اور ترجیح مشرقی روٹ کودینا بد نیتی ہے،ژوب کے ائر پورٹ پر پینے کا پانی تک نہیں، اور کوئٹہ ایر پورٹ کی حالت بہت خراب ہے۔اسی طرح دیگر سنیٹرز نے بھی سی پیک کے منصوبوں میں شفافیت پر زور دیا ہے اور معربی روٹ کو تر جیحی بنیادوں پر بنا نے کی سفارش کی ہے۔ بلوچستان حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایچ اے نے بلوچستان حکومت کو مغربی روٹ کی زمین خریداری یا بندوبست کیلئے کبھی کوئی بات نہیں کی اور اس حوالے سے بلوچستان حکومت مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔