|

وقتِ اشاعت :   July 22 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں پارٹی رہنماء ملک ابراہیم شاہوانی کے گھر پر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کے گھروں پر چھاپے باعث افسوس ہیں چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی سے گریز کیا جائے رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے بلوچ روایات کی پامالی ہے دریں اثناء پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو جاری کی گئی دستاویزات منسوخ کی جائیں ان کی موجودگی میں ملک میں صاف و شفاف مردم شماری کا ہونا کسی صورت ممکن نہیں بالخصوص بلوچستان میں سیاسی اثرورسوخ اور پیسے کے عیوض ساڑھے پانچ لاکھ افغان خاندانوں کو شناختی کارڈز و دیگر دستاویزات کا کیا گیابیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ مردم شماری کے حوالے سے منعقد ہونے والے اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ مردم شماری کے حوالے سے دو صوبے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جو افغان مہاجرین سے متعلق ہیں بلوچستان میں اکثریتی اضلاع ایسے ہیں جہاں بلوچ عوام اپنے علاقوں سے ہجرت کر کے جا چکے ہیں جو ہنوز اپنے علاقوں میں واپس آباد نہیں ہو سکے ایسے بحرانی حالات میں مردم شماری کا انعقاد و شفافیت ممکن نہیں بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں آباد افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ اصولوں کے بھی یہ برخلاف ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکیوں نے بلوچستان سے شناختی کارڈز ، پاسپورٹ اور ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کا اندراج کرائے مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں نے اپنے ذاتی گروہی مفادات کے خاطر انہوں نے غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز کا اجراء یقینی بنوایا گیا بیان میں کہا گیا ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں کی کوشش ہے کہ جعلی شناختی کارڈز کے اجراء کو جاری رکھا ہے اب بھی بلوچستان حکومت کی مشینری کو بھی غیر قانونی طریقے سے استعمال میں لایا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے ارباب و اختیار نادرا و پاسپورٹ آفس پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ بلاک شناختی کارڈز کا اجراء کیا جائے کوئٹہ کے غیور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کوئٹہ کے گردونواح میں کونسے علاقے ہیں جہاں اکثریتی آبادی افغان مہاجرین کی ہے اور اسی طریقے سے بلوچستان کے پشتون اضلاع میں افغان مہاجرین نے اپنے لئے تمام دستاویزات حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود اب بھی حکمران بلوچ دشمنی پر پالیسیاں روا رکھے ہوئے ہیں دنیا کا کوئی قانون اس بات کی اجازت اور اختیار نہیں دیتا کہ 40لاکھ افغان مہاجرین کو ملکی شہریت دی جائے بلوچستان نیشنل پارٹی اب واضح طور پر کہنا چاہتی ہے کہ ساڑھے پانچ لاکھ خاندانوں کو جاری شناختی کارڈز فوری طور پر منسوخ کئے جائیں اسی طریقے سے پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں سے مہاجرین سے نام نکلے جائیں جس طرح خیبرپختونخواء اور دیگر صوبوں اور مرکزی حکومت نے انہیں شہروں سے دور کیمپوں تک محدود رکھنے اور ان کے انخلاء کے حوالے سے اقدامات کئے اسی طرح بلوچستان میں بھی فوری اقدامات کرتے ہوئے کیمپوں تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ جاری دستاویزات کو منسوخ اور انخلاء کو یقینی بنایا جائے پورے ملک میں افغان مہاجرین کے حوالے سے یکساں رویہ رکھا جائے بلوچستان حکومت تنگ نظری اور نسلی بنیادوں پر سیاست کر رہی ہے حکومت میں شامل جماعتیں شریک جرم ہیں جو بلوچستان میں افغان مہاجرین کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور بلوچستان سرکار کی مشینری کو بھی خاطر میں لانے سے گریزاں نہیں تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے گریزاں نہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ انہی افغان مہاجرین کی وجہ سے بلوچستان میں مذہبی جنونیت ، انتہاء پسندی ، کلاشنکوف کلچر ، بدامنی ، فرقہ واریت سمیت دیگر منفی سوچ بڑھ چکی ہے یہی لوگ لاکھوں کی تعداد میں بلوچستان کی معیشت پر بوجھ ہیں اور معاشی منڈی سمیت تمام علاقوں میں قبضہ گیر بن چکے ہیں مقامی لوگ کا استحصال ہو رہا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین چاہے کسی بھی نسل ، زبان ، فرقے سے تعلق رکھتے ہیں انہیں کسی ملکی شہریت نہ دی جائے ۔