اسلام آباد : ایوان بالا میں اراکین نے ملک میں بجلی لوڈشیڈنگ ،غازی بھروتھا میں میرٹ کے خلاف بھرتیوں اور موبائل فون میں ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جمعہ کے روز عوامی اہمیت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہاکہ بلوچستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باوجود عوام کو بجلی کے بھاری بل موصول ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ میرے گھر واقع بلوچستان میں ائیرکنڈیشنڈ نہ ہونے کے باوجود 1لاکھ 43ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا ہے بلوچستان میں عید الفطر کے دوران بھی بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں پر بیٹھے رہے اور عوام نے بجلی لوڈشیڈنگ کیوجہ سے شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنا شروع کیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے ۔حافظ حمد اللہ نے کہاکہ ڈروں حملوں میں بے گناہ مارے جانے والے پاکستانیوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے نیٹو اور امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں چار سو ڈرون حملے ہوئے جس میں چار ہزار کے قریب پاکستانی شہید ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ جو لوڈ مساجد امام بارگاہوں اورشہروں میں بم دھماکے کرتے ہیں ان کو تو ضرب عضب کے زریعے سزائیں دی گئیں مگر جو پاکستان ڈروں حملے میں شہید ہوئے ہیں ان کے نقصانات کا ازالہ کون کرے گااس سلسلے میں حکومت کو نیٹو اور امریکہ سے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے بات کرنا ہوگی انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام امریکی سینیٹر جان مکین کے بیان کی شدید مذمت کرتی ہے ۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ غازی بھروتھا ڈیم میں ہونے والی بھرتیوں میں میرٹ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واپڈا حکام بھرتیوں میں کرپشن روکنے کیلئے اقدامات کریں انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے وزرا ایوان کے اندر اراکین کے اعتراضات سنتے ہیں مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے جس پر چیرمین سینٹ نے کہاکہ تمام اراکین اپنے نوٹسز سینٹ سیکرٹری کو جمع کرائیں ان پر متعلقہ وزارتوں سے جواب طلب کیا جائے گا۔سینیٹر تاج حید ر نے کہاکہ ملک میں تین کروڑ سے زائد افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں جن سے فون کارڈ کی مد میں دوہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ان افراد میں زیادہ ترا یسے لوگ ہیں جو ٹیکس دینے کے ضمرے میں نہیں آتے ہیں مگر ان سے بھی یہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں جن لوگوں پر ٹیکس لگنا چاہیے ان کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور ایف بی آر ان سے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں جبکہ غریب عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے یہ سلسلہ بند کیا جائے سینٹر نہال ہاشمی نے کہاکہ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے مگر کراچی کی صورتحال بہت خراب ہے گندگی میں اضافہ ہورہا ہے عوام گندگیوں کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں کراچی کے لئے مشورے دبئی میں کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ کراچی میں گھوسٹ ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے صفائی کی صورتحال ابتر ہوچکی اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ بیرون ممالک سے ملنے والے تحفے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں مگر پاکستان میں اس کی حفاظت نہیں کی جاتی ہے انہوں نے کہاک پاکستان میں قائم توشہ خانہ کیبینٹ ڈویژن کے زیرانتظام ہے اور ان تحفے تحائف کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں رکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ان غیر ملکی تحائف کے لئے طریقہ کار بنایا جائے جس پر چیرمین سینٹ نے کہاکہ سینٹ میں اس کیلئے طریقہ کار بنایا گیا ہے اور سینٹ کے حوالے بیرون ممالک سے آنے والے تحائف سینٹ کی ویب سائیٹ پر لگائے جائیں گے سینیٹر مختار عاجز دھامرا نے کہاکہ سندھ میں 20گھنٹوں سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے سندھ کے عوام کو پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی سزادی جا رہی ہے انہوں نے کہاکہ جن علاقوں میں بل ادا کئے جاتے ہیں وہاں پر لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے انہوں نے کہاکہ سیکرٹری واپڈا نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ سندھ میں اوور بلنگ ہوتی ہے اور انہوں نے اس پر احتجاجاٍ واک آوٹ کیا تھا انہوں نے کہاکہ چیرمین واپڈا کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مسلسل کالم لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں کچھ لاشیں بھی گرانا پڑے تو جائز ہے ۔