|

وقتِ اشاعت :   October 23 – 2016

وفاقی سیکرٹری دفاع جنرل (ر) ضمیر الدین نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے ایک اضافی ڈویژن فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) پر اگلے مورچوں پر تعینات کردی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک اسکواڈرن فضائیہ کا جو ایس یو 35جنگی جہازوں پر مشتمل ہے اس کو بھی اگلے مورچوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے سینٹ کمیٹی برائے دفاع کو یہ بھی بتایا کہ بھارتی حکومت دیگر فوجی کارروائیوں میں ملوث ہے اور زمانہ امن کے فوجی دستوں کو لائن آف کنٹرول کی طرف منتقل کیاجارہا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے سینٹ کمیٹی کو بتایا کہ اڑی سیکٹر واقع کے بعد بھارتی افواج نے 58بار لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اسی اثناء میں سینٹ کمیٹی برائے دفاع نے ایک قرار داد منظوری کی جس میں بھارتی جارحیت کی مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے جارحانہ فوجی کارروائیوں کا نوٹس لے ۔ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم کے جارحانہ تقاریر کی بھی مذمت کی گئی ۔ قرار داد میں ان دعوؤں کو مسترد کردیا گیا کہ بھارتی افواج نے پاکستانی علاقوں میں داخل ہو کر کارروائی کی ہے جنرل ضمیر الدین نے اس سے قبل قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ اس حملے کے دو عنصر ہیں ایک بین الاقوامی سرحدکو عبور کرنا اور دوسرا حملہ کرنا ’ دونوں عناصر مفقود نظر آئے ۔ اس طرح سے جنرل ضمیر الدین نے بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعویٰ کو یکسر مسترد کردیا ۔ اس بنیاد پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی بھارتی دعوؤں کو مسترد کردیا دوسری جانب بھارتی حکومت نے میڈیا جنگ کی ابتداء کردی ہے اور اکثر ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشن پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں اور ان سب کی بھارتی حکومت کی جانب سے ہمت افزائی کی جارہی ہے اس میں پاکستان دشمن عناصر کو ترغیب دی جارہی ہے کہ آئے دن وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلیں ۔ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور اس کے مسلح افواج مزید کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کا بہانہ تلاش کیاجائے، بھارتی عزائم صاف اور واضح ہیں اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے بھارت بہانے تلاش کررہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بھارتی افواج اور جنگی جہاز پاکستان کے خلاف اگلے مورچوں پر پہنچائیں جائیں ۔ سینٹ قائمہ کمیٹی برائے دفع کی قرارداد میں واضح اعلان کیا گیا ہے کہ ملک کے مسلح افواج خصوصاً زمینی فوج ’ نیوی اور پاکستان ائیر فورس مکمل طورپر تیار ہیں اور ملک کی مکمل دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اس اعلان کے بعد خصوصاً اندرون خانہ بریفنگ کے بعد یہ اعلان کرنا کہ ملک کے دفاعی افواج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں فروعی اختلافات کو چھوڑ کر متحد ہوجائیں گے اور ممکنہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کریں گے خصوصاً عمران خان اور پی پی پی ملک میں کسی قسم کے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے عمل سے گریز کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ ملک کی سلامتی اور دفاع کو دیں۔ ملک سلامت رہے گا تو یہی جمہوریت ہوگی عوامی راج ہوگا۔ لہذا اولیت ملک کے دفاع اور سلامتی کو دینی چائیے نہ کہ ذاتی خواہشات کو ۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ عمران خان اپنے احتجاجی تحریک کو موخر کردیں گے اور پیپلزپارٹی کے رہنما بھی موجودہ نازک دور میں سیاسی احتجاج سے گریز کریں گے۔