|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی موجودگی،10لاکھ سے زائد بلوچوں کی اپنے علاقوں سے دوسرے علاقوں میں ہجرت اورمردم شماری پر بلوچ قوم کے خدشات و تحفظات کے حوالے سے عدالت عظمی میں نظرثانی اور بلوچستان ہائی کورٹ میں پٹیشنزدائر کر دیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ در ج بالا مسائل کے حل تک بلوچستان میں مردم شماری کی ملتوی جائے موجودہ حالات میں مردم شماری سے سب سے زیادہ ان بلوچوں کی حق تلفی ہو گی جو نامساعد حالات کے سبب دوسرے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں حالیہ مردم شماری ، خانہ شماری کرائی گئی ہے 10لاکھ سے زائد بلوچوں کے حقوق غضب کئے جائیں گے جو کسی صورت درست اقدام نہیں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین جو کیمپوں تک محدود ہونے کے بجائے بلوچستان بھر میں آباد ہو چکے ہیں اور غیر قانونی طریقے سے ملکی شہریت سے بھی حاصل کر لی ہے اس کی وجہ سے بھی صاف شفاف ، غیر جانبدار مردم شماری کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ رجسٹری میں نظرثانی اور مرکزی رہنماء غلام نبی مری نے عدالت حالیہ میں پٹیشن دائر کر دی اس موقع پر پارٹی رہنماء اور سپریم کورٹ کے وکیل جمیل رمضان دہوار ، باسط ایڈووکیٹ ، یونس بلوچ ، سردار رحمت اللہ قیصرانی بھی موجود تھے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں حکمرانوں اگر صاف شفاف مردم شماری کرانا چاہتے ہیں تو بلوچوں کے خدشات وتحفظات کو دور کریں ایک جانب حکمران بڑے دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ ہم بلوچوں کو قومی دہارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں دوسری جانب غیر ملکیوں کی موجودگی میں مردم شماری کرائی جا رہی ہے جس سے بلوچ مزید محرومیوں کا شکار ہوں گے