|

وقتِ اشاعت :   February 21 – 2017

پشاور:پاک افغان بارڈر پر بھاری توپ خانہ تعینات کردیا گیا، ایف سی نے امن وامان کے پیش نظر مزید اضافی پوسٹیں قائم کرکے اہلکار تعینات کردیئے جبکہ باب دوستی چوتھے روز بھی آمد و رفت اور نقل و حرکت کے لئے بند رہا۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر بھاری توپ خانہ تعینات کردیا گیا ہے تاکہ ممکنہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے کا مؤثر جواب دیا جاسکے ، ذرائع کے مطابق بارڈر پر سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کردیئے گئے ہیں تاکہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کیخلاف مؤثر کارروائی ہو سکے ۔اس کے علاوہ ایف سی نے امن وامان کے پیش نظر باب دوستی پر مزید پوسٹیں قائم کرکے اہلکار کی تعداد کو بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔ذرائع کے مطابق یہ انتظامات پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی اٹھنے والی لہر کے پیش نظر کیے گئے ہیں ۔۔دفاعی ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ غضنفر علی نے کہا ہے کہ یہ پاک فوج کا بہت اچھا اقدام ہے اس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر بہت طویل ہے اور اس کے ایک ایک انچ کی سیکیورٹی کرنا مشکل ہے ،ایسی صورتحال میں پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی سخت کر کے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاک افغان بارڈر پر ہر قسم کی آمد ورفت بند رہی جس کے باعث تجارت کے لئے آئے ہوئے ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جنہیں ایف سی نے ایک سائیڈ پر کردیا ہے ، ۔واضح رہے کہ لاہور اور شہبازقلندر دربار پر بم دھماکوں میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں ۔