کوئٹہ : سابق چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اﷲ چٹھہ ملازمت سے ریٹائرڈ‘ جاتے جاتے غصہ کئی افسران پر اتار گئے ان کی فہرست میں جو افسران ناپسندیدہ تھے انہیں معطل یا کھڈے لائن اور جو پسندیدہ تھے ان سے بعض کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ تعیناتی بھی اچھی پوسٹوں پر کردی وزیراعلیٰ بلوچستان نے جس آفیسر کو فرائض میں غفلت، لاپرواہی اور سماج دُشمن عناصر سے رابطوں کے الزام میں معطل کیا تھا اسے بھی دوبارہ بحال کرنے کے احکامات جاری کردیئے تفصیلات کے مطابق سابق چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اﷲ چٹھہ بلوچستان میں تقریباً تین سال کا عرصہ گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے جبکہ وفاقی حکومت نے انہیں نیپرا میں مزید چار سال کیلئے کنٹریکٹ پر پنجاب کا ممبر تعینات کردیا ہے سیف اﷲ چٹھہ کی جگہ بلوچستان کے نئے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کیلئے ابھی کوئی نام فائنل نہیں ہوا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اﷲ زہری نے بھی اس عہدے کیلئے تین نام وفاقی حکومت کو دیئے ہیں جن پر غور اور مشاورت کی جارہی ہے توقع ہے کہ ایک دو روز میں بلوچستان کے نئے چیف سیکرٹری کا نام فائنل ہوجائے گا ذرائع کے مطابق سابق چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اﷲ چٹھہ صوبے میں اپنی تعیناتی کے دوران کافی متنازعہ رہے کابینہ میں شامل بعض وزراء اور حکومتی ارکان کو ان سے کئی معاملات پر اختلاف رہا اور ناراضگی بھی رہی جبکہ صوبے کے دو سٹنگ وزراء نے بھی ان کے رویئے پر احتجاج کرتے ہوئے نا صرف اپنے دفاتر کو تالے لگائے بلکہ استعفیٰ دینے تک بھی نوبت آئی تاہم سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور موجودہ وزیراعلیٰ نواب ثناء اﷲ خان زہری کئی مرتبہ ایسی صورتحال میں درمیان میں پڑے اور معاملات کو رفع دفع کرایا جبکہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں تعیناتی کے دوران اس حوالے سے بھی چیف سیکرٹری کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی کہ مالی بے ضابطگیاں عروج پر رہیں اور ان کے ایک سیکرٹری کے گھر سے کروڑوں روپے کا نکلنا ، امن و امان کے حوالے سے سانحہ کوئٹہ اور پی ٹی سی کا ہونا اور ترقیاتی فنڈز کے ہر سال اربوں روپے لیپس ہوجانا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صوبے میں بیورو کریسی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی ان چیزوں پر کتنی نظر تھی اتنے بڑے سانحات کا ہونا‘ مالی بے ضابطگیاں اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے اربوں روپے لیپس ہونا ان کی اپنی بیورو کریسی پر کمزور گرفت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور بلوچستان میں اس تین سال کے دوران کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی گڈ گورننس امن و امان اور مالی بے ضابطگیوں کی تمام تر ذمہ دار اس لئے بھی بیورو کریٹس کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تمام معاملات پر کتنی گرفت لے کر چل رہا ہوتا ہے سانحہ کوئٹہ کے بعد سپریم کورٹ کے انکوائری کمیشن کے سامنے چیف سیکرٹری کا بیان بھی اس بات کی واضح مثال ہے کہ انہوں نے اپنے سر سے تمام ذمہ داریاں اُتار کر ملبہ سیاستدانوں پر ڈال دیا حالانکہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) نے ہر معاملے میں چیف سیکرٹری کو آن بورڈ رکھا اور ان کی مشاورت کو مدنظر رکھ کرفیصلے کئے۔