|

وقتِ اشاعت :   April 7 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کے اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں منصوبہ کے تحت پشتون بلوچ طلباء پر تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں پنجاب حکومت سے بات کی جائے کہ ہمارے طلبہ کو تحفظ فراہم کیا اور ہمارے طلبہ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے پنجاب یونیورسٹی میں پشتون بلوچ طلبہ کو اپنے کلچر کے اظہار کی اجازت نہیں دی جارہی جو ناقابل برداشت ہے کراچی میں اسی تنظیم کے رد عمل میں مہاجر سٹوڈنٹس جیسی پرتشدد تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا جماعت اسلامی نے افغانستان میں جو افسوسناک کردار ادا کیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے پنجاب یونیورسٹی میں جو ہوا اس کی روک تھام نہ کی گئی تو اس کے مستقبل میں بھیانک نتائج ہوں گے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں پنجاب یونیورسٹی سے متعلق گزشتہ اجلاس میں باضابطہ شدہ تحریک التواء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا معاملہ انتہائی نازک ہے بار بار ہمارے طلبہ پر تشدد کیا جارہا ہے گزشتہ سال بھی ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد ایک معاہدہ ہوا تھا مگر اس کی ایک بار پھر اسلامی جمعیت طلبہ نے خلاف ورزی کی ہمارے طلبہ پر پنجاب یونیورسٹی میں ریلی نکالنے اور تقاریب کے انعقاد پر پابندی لگادی گئی ہے مگر اسلامی جمعیت طلبہ کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔انہوں نے زور دیا کہ تحاریک التواء کو قرار داد کی صورت میں منظور کرکے پنجاب حکومت سے بات کی جائے کہ ہمارے طلبہ کو تحفظ فراہم کیا اور ہمارے طلبہ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پشتون بلوچ طلبہ کو اپنے کلچر کے اظہار کی اجازت نہیں دی جارہی جو ناقابل برداشت ہے کراچی میں اسی تنظیم کے رد عمل میں مہاجر سٹوڈنٹس جیسی پرتشدد تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا جماعت اسلامی نے افغانستان میں جو افسوسناک کردار ادا کیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے پنجاب یونیورسٹی میں جو ہوا اس کی روک تھام نہ کی گئی تو اس کے مستقبل میں بھیانک نتائج ہوں گے صوبائی وزیر سردار محمد اسلم بزنجو نے کہا کہ ہم تحریک التواء کی حمایت کرتے ہیں تاہم اس مسئلے کے حل کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے وہ پارلیمانی کمیٹی پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کرے اس مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ ہمارے طلبہ کو مزید مشکلات سے بچایا جاسکے پشتونخوا میپ کی معصومہ حیات نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اس کا خود نوٹس لے کر پنجاب حکومت سے بات کرے اور اس سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جمعیت العلماء اسلام کی حسن بانو نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے مسئلے کو اسلامی جمعیت طلبہ اور پشتون طلبہ کا رنگ نہ دیا جائے یہ دو طلبہ گروپوں کے مابین تصادم تھا الجھانے سے نفرتوں میں اضافہ ہوگا دونوں جانب سے طلبہ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں تمام اقوام کے طلبہ شامل ہیں ۔پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے بھی اس سلسلے میں بات کی جائے کہ انہوں نے ایک ہی دن ایک مقام پر پشتون طلبہ اور اسلامی جمعیت طلبہ کو کیوں پروگرام کرنے کی اجازت دی گئی پشتونخوا میپ کے ولیم جان برکت نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پشتون کلچر ڈے منایا جارہا تھا جس پر حملہ کیا گیا جبکہ اس سے قبل ملتان میں بلوچ طلبہ پر بھی ایسا حملہ ہوا اسلامی جمعیت طلبہ کا ماضی ہمارے سامنے ہے اس تنظیم نے پنجاب یونیورسٹی میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے لاہور میں ہمارے ایف سی کالج پر چالیس سال تک انہوں نے قبضہ کررکھا تھایہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلے کو حل کرے ورنہ تلخیوں میں اضافہ ہوگا۔پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ ایک خاتون رکن نے صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا ہے جس پر دکھ ہوا ہے اکیس مارچ کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پشتون کلچرل ڈے یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت سے منایا جارہا تھا جس کا وائس چانسلر نے خود اقرار کیا تھا مگر اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے ہمارے طلبہ پر حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تمام ٹی وی چینلوں نے اسے پیش کیا واقعے میں18افراد گرفتار ہوئے جن میں بعض کا تعلق یونیورسٹی سے بھی نہیں مگر افسوس کہ اب تک ان کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی رانا ثناء اللہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ واقعے کی ذمہ داری اسلامی جمعیت طلبہ پر عائد ہوتی ہے اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہیں ہورہی ہمارے روایتی اتنڑ کو برداشت نہ کرنا قابل مذمت ہے پشتونخوا میپ کے سید لیاقت آغا نے کہا کہ آج ایوان کو قواعد کے مطابق نہیں چلایا جارہا میں نے بہت پہلے اپنا نام بھیجا مگر مجھے بولنے کا موقع نہیں ملا انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پہلی بار طلبہ پر تشدد نہیں ہوا بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ سندھ پنجاب سمیت پشاور یونیورسٹی میں طلبہ پر اسی طرح تشدد کرتی رہی ہے کچھ عرصہ قبل ان کے طلبہ کے کمروں سے اسلحہ بھی برآمد ہوچکا ہے ہمارے طلبہ کے لئے پنجاب یونیورسٹی میں رہنا مشکل بنادیا گیا ہے انہیں گوجرانوالہ جانے کو کہاجارہا ہے ہمیں اپنے کلچرل کے اظہار کی اجازت نہیں دی جارہی منصوبے کے تحت حملہ کرکے ہمارے طلبہ کو تشدد کانشانہ بنایا گیا جس کا مقصد ہمارے طلبہ کو پنجاب یونیورسٹی سے نکالنا ہے مسلم لیگ کے شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اس مسئلے پر ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو لاہور جاکر اس مسئلے کو تفصیلی طور پر دیکھے وہاں پر ہمارے 25ہزار طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں اگر ماحول کو ٹھنڈا نہ کیا گیا تو ہمارے طلبہ کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔جمعیت العلمائے اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ گزشتہ پچاس سال سے اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور اب بھی اسے برقرار رکھنا چاہتی ہے ہمیں آئین کے تحت کہیں بھی تعلیم حاصل کرنے اور اپنی ثقافت کے اظہار کاحق حاصل ہے مگر پنجاب یونیورسٹی میں یہ حق چھینا جارہا ہے ہم نے معاملے کو ٹھنڈا کرکے اس کا موثر حل نکالنا ہے اس کے لئے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو اس مسئلے پر بات کرے تاکہ یہ مسئلہ مستقبل بنیادوں پر حل ہو۔صوبائی وزیر نواب محمدخان شاہوانی نے کہا کہ پنجاب میں جس طرح ہمارے پشتون بلوچ طلبہ پر تشدد کیاگیا اس کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور میری بھی رائے یہی ہے کہ اس حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو وہاں جا کر معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اس سلسلے میں پنجاب حکومت سے بات کرے ۔ صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک سازش کے تحت ہمارے طلبہ پر گزشتہ چار سالوں سے مسلسل حملے جاری ہیں اگر اس کو روکا نہیں گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ہمارے بچوں نے وائس چانسلر سے باقاعدہ اجازت لی تھی لیکن اسلامی جمعیت طلبہ اپنی دہشت برقرار رکھنے کے لئے ان پر حملہ آور ہوئی طلبہ وطالبات پر جو حملہ ہوا اس میں روایات کو پامال کیا گیا اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ہمارے طلبہ وہاں پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں انہوں نے کہا کہ تحاریک التواء کو مشترکہ قرار داد کی صورت میں ایوان سے منظور کیا جائے انہوں نے ایوان کی مشاورت کے بعد قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ 21مارچ2017ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پشتون کونسل کی جانب سے پشتون کلچرل ڈے منایا جارہا تھا کہ دوران پروگرام اسلامی جمعیت طلبہ کے شرپسندوں کی جانب سے پشتون طلبہ وطالبات پر حملہ کرکے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ نہ صرف پشتون قوم پر حملے کے مترادف ہے بلکہ ملکی امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے ۔