لکی مروت: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مردان یونیورسٹی واقعے کو بنیاد بنا کر سیکولر طبقے نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی سازشیں شروع کردی ہیں،ہم ان عناصر پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم یا اس کو چھیڑنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ہونے والے واقعے کو بنیاد بنا کر سیکولر اور مغرب زدہ طبقہ ایک بار پھر توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کرنے کی سازشیں کر رہا ہے،ہم ان عناصر پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی یا دوبارہ دیکھنے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو پسماندگی کی سمت دھکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کا اتحاد پوری قوم کی خواہش ہے اور اس سلسلے میں دیگر جماعتوں سے رابطے میں ہیں جلد ہی مرکزی شوریٰ کا اجلاس بلا کر دینی جماعتوں کے اتحاد اور آئندہ الیکشن کیلئے لائحہ عمل تیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ ملک کی معاشی ترقی کا ضامن ہے اور اس میں جنوبی اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لکی مروت میں پسماندگی کی ذمہ داری روایتی سیاستدانوں کی وجہ سے ہے،حکومت کی کوشش ہے کہ بجلی کے نئے منصوبے لگا کر بجلی بحران پر قابو پاسکے۔انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم ایک متنازعہ منصوبہ ہے ہم اس کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں۔