|

وقتِ اشاعت :   April 21 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سر براہ وسینیٹر میر اسرار اللہ زہری نے کہا کہ پاناما کیس سے متعلق فیصلے کو یکسر مسترد کر تے ہیں وزیراعظم نوازشریف کو ایک بار پھر امیر المومنین ڈکلیئر کر دیا ملک میں جمہوری نظام نہیں ہے اور 5 سال تک نوازشریف کو بادشاہت حوالے کریں دونوں طرف سے مٹائیاں تقسیم کی جا رہی ہے ملک میں کبھی بھی اچھے اور مثبت فیصلے نہیں ہوئے اور یہی توقع تھی کہ فیصلہ بر خلاف آئیگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 540 صفحات پر مشتمل صفوں کو پڑھنے کے لئے2 سال چاہئے اور اگر تحقیقاتی کمیٹی بنانا تھا تو قوم کا وقت کیوں ضائع کیا گیا اور اب ہر کوئی جے آئی ٹی پر اپنا تشریح کرینگے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاناما کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور بی این پی ( عوامی) بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی جب سپریم کورٹ نوازشریف کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے تو تحقیقاتی کمیٹی میں 19 افسران کا وزیراعظم کے خلاف فیصلے کرینگے انہوں نے کہا کہ آخری توقع یہی تھا کہ سپریم کورٹ نواز شریف کے خلاف نا اہلی کا فیصلہ نہیں دینگے اور اب لاہور والے کو امیر المنین ڈکلیئر کیا جائے اور500 سال تک جمہوری نظام کو ختم کر کے بادشاہت ان کے حوالے کریں موجودہ فیصلے نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا اور اب ہر کوئی اپنے غرض کے لئے جمہوریت کو استعمال کر رہے ہیں ہم سمجھ نہیں آرہا کہ کس کی فتح ہوئی اور کس کی نہیں دونوں طرف سے مٹھائیاں تقسیم اور کھائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہر ایک کے منہ میں لولی پاپ دیدیا گیا اور ہر مسلم لیگی اس لئے جشن منا رہے ہیں کہ بادشاہی کا بلینک چیک ان کے حوالے کر دیا گیا۔